English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعظم کی پی آئی اے پر خصوصی توجہ اسے مثالی ادارہ بنا دیگی؟ نعیم صدیقی

وزیراعظم عمران خان نے با لاخر مسلسل خسارے کا شکار پی آئی اے پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی ہے انھوں نے اپنے ماتحت ادارون اور ذمہ داران سے واضع طور پر کہدیا ہے کہ پی آئی اے کو منافع بخش ادارے بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں،انھوں نے حکام کو پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ گذشتہ دنوںان کی زیرصدارت پی آئی میں اصلاحات کے بارے میں جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی اجلاس ہوا تھا جس میںعمران خان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے بدانتظامی اور کرپشن کے باعث بوجھ بن چکا ہے اور اس نقصان میں ٹیکس دہندگان بھی شریک ہیں۔ وزیراعظم نے پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ پراپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی آئی اے چیئرمین ارشد ملک کو ہدایت کی کہ قومی ائرلائن کو جن نقصانات کا سامنا ہے ان پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔وزیراعظم کو ادارے کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 414 اعشاریہ 3 ارب تک پہنچ چکا ہے۔پی آئی اے سے 194 گھوسٹ ملازمین سمیت 73 عملے کے افراد اور 7 پائلٹوں کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے جو کہ اچھی بات ہے کہ جعل سازی کی کوئی بھی صورت کہیں بھی ہو اس کا سد باب لازم ہے۔ وزیراطم کی سربارہی میں ہونے والے اس اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر، وزیرنج کاری و ایوی ایشن محمد میاں سومرو، ائرفورس چیف ائر مارشل مجاہد انور، سینیٹر فیصل جاوید اور دیگر اعلہ حکام بھی شریک تھے۔ یہ بات نہایت افسوسناک اور قومی المیہ ہے کہ پی آئی اے کو سات بین الاقوامی اور اندرونی پروازوں میں اس وقت 500 ملین کے خسارے کا سامنا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کچھ روز قبل اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت بڑی سنجیدگی کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملزاور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نومبر میں قومی ایئرلائنز کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری سے 17 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔پی آئی اے کے جہا ز اڑانے والے بھی کمال کے لوگ ہیں اور نجانے بھرتی کیسے ہو گئے کہ سول ایوی ایشن کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 5 پائلٹس میٹرک پاس تک نہیں ہیں، دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سپریم کورٹ بینچ کے سامنے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ پی آئی اے کے 7 پائلٹس کی تعلیمی قابلیت جعلی ہے، ان میں سے 5 افراد نے میٹرک تک نہیں کیا۔اس موقع پر سی اے اے کے قانونی مشیر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹیوں کے عدم تعاون کی وجہ سے ادارے کو ڈگریوں کے تصدیقی کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا ہوتاہے۔عدالت میں مزید بتایا گیا تھا کہ پی آئی اے بھی پائلٹس اور کیبن کریو سمیت اپنے دیگر ملازمین کا ریکارڈ فراہم کرنے میں تعاون نہیںکرتا اور نہ ہی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔اعدالت میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تاحال 4 ہزار 3 سو 21 ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ 402 افراد کا تصدیقی عمل ابھی پائپ لائن میں ہے۔ عدالت میںسماعت کے دوران پی آئی اے کے ایک افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تقریبا 50 ملازمین کو اپنے دستاویزات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے معطل کیا جاچکا ہے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ پاکستان کی پروازیں امریکہ کیلئے روانہ ہونا شروع ہو جائیں گی ،پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہیکہ موجودہ سال مئی سے امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کا امکان ہے۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے بتایا کہ مئی سے پروازوں کی بحالی ‘امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کی حتمی کلیئرنس سے مشروط ہے’۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی تمام تجاویز کی تعمیل کی، جیسے اسلام آباد اور کراچی سمیت بڑے ایئرپورٹس پر اسکریننگ مشینوں کے استعمال کیا جارہا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ اور قومی ایئرلائن کے درمیان 2 سال سے مذاکرات جاری ہیں جبکہ ہم نے ‘اپنی طرف سے وہ تمام اقدامات کیے ہیں جن کی تجویز دی گئی تھی’۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ امریکی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا وفد مئی میں حتمی کلیئرنس جاری کرے گا۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے پراوزوں کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق ابتدائی طور پر نیویارک کے لیے 3 پروازیں ہوں گی جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ کیا جائے گا۔، اس ضمن میں امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جبکہ امریکا کی ہی ٹرانسپورٹ سیکیورٹی اتھارٹی نے کراچی اور اسلام آباد سے براہ راست پروازوں کے سلسلے میں پی آئی اے فلیٹ اور ایئرپورٹس پر سیکیورٹی انتظامات کا آڈٹ کیا تھا۔واضح رہے کہ سیکیورٹی تحفظات کے باعث امریکا اپنی فضائی حدود میں پاکستان ایئرپورٹ سے اڑنے والی کسی بھی براہ راست فلائٹ کو آنے کی اجازت نہیں دیتا۔اکتوبر 2017 میں پی آئی اے نے بڑھتے ہوئی آپریشنل لاگت اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے امریکا کے لیے اپنی پروازوں کا آپریشن معطل کردیا تھا۔باکمال لوگ لاجواب سروس کا دعوی کرنے والی قومی ایئر لائنز میں بدانتظامی کے باعث قومی خزانے کو 18 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں پی آئی اے کی انتظامیہ کی غفلت سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا کہ ایک سال کے دوران 46 پروازیں بغیر مسافروں کے روانہ ہوئیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سال 2017-2016 کے لیے 46 ایسی پروازیں آپریٹ ہوئیں، جن میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا،اس کے علاوہ حج اور عمرہ کے لیے ایسی 36 پروازیں تھیں، جنہوں نے بغیر مسافروں کے اڑان بھری۔آڈٹ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بغیر مسافروں کے ان پروازوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 18 کروڑ 40 روپے کا نقصان ہوا، اس طرح مجموعی طور پر ان پروازوں کی تعداد 82 ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بغیر مسافروں کے پروازوں کا آپریٹ ہونا مکمل منصوبہ بندی کا فقدان اور انتظامیہ کی بدانتظامی کو ظاہر کرتا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے سے متعلق انتظامیہ کو اکتوبر 2018 میں رپورٹ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔اس کے علاوہ اس رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ معاملے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔جب ہم ایک بڑے قومی ادارے کے اندر اس طرح کی بدانتظامی اور شدید قومی نقصان کو دیکھتے ہیں تواندازہ ہوتا ہے کہ کسقدر غیر ذمہ دار لوگوں کو اہم ترین ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور قومی خزانے سے ان کو بے شمار فائدے اور مراعات بھی حاصل ہیں۔اب وزیراعظم عمران خان نے اگر پی آئی اے کو اسی انتظامیہ کے ساتھ منافع بخش اور عظیم ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تو دیکھتے ہیں کہ ان کے خصوصی اقدامات اور توجہ کے بعد پی آئی اے ترقی کی کون کون سی منازل طے کرتا ہے اور اس کی کارکردگی .باکمال لوگ،ل؛اجواب سروس کے نعرے کی طرح کیا عملی صورت بھی اختیار کرتی ہے ہا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے