برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے باوجود ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا کو یہ پیش کش جرمن جریدے دیر اسپیگل سے انٹرویو میں کی، جو آج شائع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ لوگ اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرلیں گے اور حقیقتوں کوسمجھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن انہوں نے اس کی ایک شرط عائد کی ہے اوراپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ کسی قسم کے مذاکرات سے پہلے امریکا کو ایران پر عائد کردہ تمام تعزیری پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ ڈیر اسپیگل کے مطابق جواد ظریف نے کہا کہ ہمارے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ کیا کردار اختیار کرتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان السعود نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے انقلاب کو پڑوسی ممالک کو برآمد کرنا چاہتی ہے۔ ایک انٹرویو میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ ایران توسیع پسندانہ نظریات پر چل رہا ہے۔ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ مل کرآگے بڑھنے اور بقائے باہمی کے اصول کی نفی کررہا ہے۔ اس کا مقصد اپنا توسیعی منصوبہ جاری رکھنا ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات