واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے میں 34فوجی متاثر ہوئے تھے۔ پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوفمین کا کہنا تھا کہ امریکی اڈوں پر حملوں سے 34 فوجی دماغی تکالیف میں مبتلا ہوگئے۔ 8 فوجی جرمنی میں قائم امریکی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ 16 فوجیوں کا علاج عراق اور ایک کا کویت میں کیا گیا، جس کے بعد وہ ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔یاد رہے کہ ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد 8 جنوری کو عراق میں امریکا کے عین الاسد اور اربیل میں فوجی اڈوں کوحملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے میں کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا، بعد میں واشنگٹن حکام نے اعتراف کیا کہ صرف 11فوجی زخمی ہوئے تھے۔ ٹرمپ سے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ فوجیوں کو سر میں درد اور کچھ دیگر مسائل ہیں، لیکن ان کی نوعیت بہت سنگین نہیں ہے۔حزب اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کو غلط بیانی کرنے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو پہنچنے والے جانی نقصانات کے حوالے سے بین الاقوامی صحافتی، سیاسی اور سفارتی حلقے ابھی بھی مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن نے اب تک وضاحت بھی نہیں دی کہ میزائل حملوں کے بعد فوجی ہیڈکوارٹر میں بند کمروں میں معاملات کس انداز میں طے کیے جا رہے ہیں۔ ’عراق اینڈ افغانستان ویٹرنز آف امریکا ‘نامی تنظیم نے زخموں کی حقیقی نوعیت ظاہر کرنے میں تاخیر کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔
ایرانی حملے میں 34 امریکی فوجی متاثر ہوئے ،پینٹاگون
القمر
