واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ فوج کے 50 اہل کاروں میں دماغی چوٹوں کی تشخیص ہوئی ہے جو عراق میں واقع اُس امریکی فوجی اڈے پر موجود تھے جس پر رواں ماہ ایران نے بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایران کی جانب سے 8 جنوری کو کیے گئے میزائل حملوں کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کا کوئی اہلکار ان حملوں میں ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل تھامس کیمپبل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 31 فوجیوں کو عراق میں علاج کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق 18 اہل کاروں کو علاج کی غرض سے جرمنی بھیجا گیا ہے جب کہ ایک کو کویت بھی روانہ کیا گیا تھا جو اب صحت یابی کے بعد اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکا ہے۔ لیفٹیننٹ تھامس کے مطابق متاثرہ فوجیوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کے 43 سینیٹروں پر مشتمل گروپ نے ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں کردار ادا کرنے والے امریکی فوجیوں اور انٹیلی جنس کے ارکان کو اعزاز دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ امریکا کی حکمراں ری پبلکن پارٹی کے تینتالیس سینیٹروں پر مشتمل گروپ نے ایک قرارداد پیش کی ہے ،اس میں ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں کردار ادا کرنے والے امریکی فوجیوں اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے ارکان کواعزاز سے نوازنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ایرانی حملے میں 50 فوجی متاثر ہوئے،ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹا ثابت
القمر
