English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جامشورو سرکاری اراضی کیس: 6ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم

القمر

اسلام آباد (صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے جامشورو میں سرکاری اراضی ڈی ایچ اے کو فروخت کرنے والے جعلسازوں کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے احتساب عدالت کو 6 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمی کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے بغیر تیاری پیش ہونے پر نیب پراسیکیوٹر پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر کیس فائل پڑھ کر آیا کریں تاکہ عدالت کی معاونت کر سکیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے ایکڑ سرکاری اراضی نجی ملکیت ظاہر کر کے ڈی ایچ اے کو دی گئی؟ اراضی کی مد میں ڈی ایچ اے نے ملزمان کو کتنی رقم ادا کی؟ جس پر نیب کے پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے کو 731 ایکڑ اراضی فروخت کی گئی، سرکاری اراضی کے جعلی انتقال بنائے گئے، جبکہ ڈی ایچ اے نے اراضی کے بدلے ملزمان کو پلاٹس کی 1125 فائلیں دیں۔ عدالت نے کہا کہ ریاست کی زمین کو نجی ظاہر کرکے فروخت کیا گیا۔ ملزم حنیف لالانی کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل نے ڈی ایچ اے کو زمین فروخت نہیں کی، عدالت نے کہا کہ آپ کے موکل پر اسکینڈل کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے، نیب کے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ملزم گرفتار نہ رہا تو گواہان پر اثرانداز ہو سکتا ہے، ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل پر تمام الزامات خیالی ہیں، عدالت نے وکیل سے کہاکہ تمام گواہان کے اشارے آپ کے موکل کی طرف ہی جا رہے ہیں، ہر سوال کا جواب نیب پراسیکیوٹرز کو فائلوں سے ڈھونڈنا پڑتا ہے، پراسیکیوٹر نے کہاکہ کوشش کریں گے آئندہ عدالت کو شکایت نہ ہو۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان حنیف لالانی، غلام نبی اور معیار ٹرائل مکمل ہونے تک جیل میں رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے