روم (انٹرنیشنل ڈیسک) اٹلی اور لیبیا کے درمیان تارکین وطن کی حراستی مراکز میں واپسی آسان بنانے کے معاہدے کی توسیع پر انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مہاجرین کا کہنا ہے کہ حراستی مراکز میں اذیت رسانی اور آبرو ریزی کے واقعات عام ہیں۔ یورپی یونین لیبیا کو اپنے ساحل کی حفاظت کی صلاحیت بہتر کرنے اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے لاکھوں ڈالر بھیج چکی ہے لیکن انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ رقم آخر کار مجرموں کے گروہوں تک پہنچ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیبیا کو بحیرہ روم کے پار سے آنے والے تارکین وطن کو روکنے کی کوشش کے لیے 328 ملین سے زیادہ یورو بھیجے جا چکے ہیں، جس کا بیشتر حصہ اقوام متحدہ کے اداروں کے توسط سے دیا گیا۔ تازہ اعداد شمار کے مطابق 2013ء سے لیبیا پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد اپن کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ واضح رہے کہ اٹلی طرابلس کے ساتھ 2017ء کے اس معاہدے کو 3 سال کے لیے توسیع دینے پر رضامند ہوچکا ہے، جو تارکین وطن کی حراستی مراکز میں واپسی کو آسان بناتا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے عہدیداروں کے مطابق قیدیوں پر تشدد عام ہے، ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے اور انہیں بھوکا پیاسا رکھ کر غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
تارکین وطن کے معاہدے پر انسانی حقوق تنظیموں کی تنقید
القمر
