English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسدی فوج کی پیش قدمی سے 2 ہفتوں میں 850 ہلاکتیں

القمر

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمالی حصے میں روس کی حمایت یافتہ اسدی فوج کی خوں ریز پیش قدمی جاری ہے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق 24 جنوری کو صوبہ ادلب اور حلب میں شروع کی گئی اس کارروائی میں اب تک فریقین کے 850 افراد مارے جاچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسدی فوج نے اس عرصے میں مزاحمت کاروں کے زیرانتظام 136 علاقوں پر قبضہ کیا۔ اس دوران روسی اور اسدی فضائیہ نے وحشیانہ بم باری کی، جس کے باعث مزاحمت کاروں کو پسپا ہونا پڑا۔ جب کہ لڑائی میں 10 ایران نواز غیرملکیوں جنگجوؤں سمیت 406 اسدی فوجی وجنگجو مارے گئے۔ اسی طرح 444 مزاحمت کار بھی جان سے گئے۔ دوسری جانب ترکی اور روس کی زیرقیادت 12 جنوری کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک تشدد سے پاک قرار دیے گئے ادلب کے علاقوں پر بشار الاسد انتظامیہ اور روس کے فضائی حملوں میں 183 شہری مارے گئے ہیں۔ شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسدی اور روسی لڑاکا طیاروں کے حملوں میں 52 بچے اور 30 خواتین سمیت 183 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق روسی اور اسدی افواج نے بم باری میں اسپتالوں کو 5 بار، تعلیمی مراکز کو14 بار اور شہری دفاع کے دفاتر کو 13 بار نشانہ بنایا ہے۔ اسدی فوج اس وقت بھی حلب کے جنوبی دیہی علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ یہ علاقے ادلب صوبے کے ساتھ انتظامی حدود کے قریب واقع ہیں۔ اس دوران اسدی فوج حلب کے جنوب میں کئی علاقے واپس لینے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اسی طرح اسدی فوج نے ادلب صوبے کی انتظامی حدود کے اندر دمشق حلب بین الاقوامی ہائی وے ایم 5 کے تمام حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مذکورہ ہائی وے کا صرف 30 کلو میٹر کا حصہ اب مزاحمت کاروں کے ہاتھوں میں رہ گیا ہے۔ دمشق سے حلب تک کا سڑک کا فاصلہ تقریباً 356 کلو میٹر ہے۔ خیال رہے کہ حلب کو دارالحکومت دمشق سے ملانے والا بین الاقوامی ہائی وے شام میں مختلف متحارب فریقوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ حلب کے جنوبی دیہی علاقوں میں اپوزیشن اور دیگر گروپوں کی اسدی فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ اس دوران فریقین کے درمیان شدید گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے