English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شام عالمی قوتوں کا دنگل ،اسدی اور امریکی فوج میں بھی جھڑپ

شام: روس اور امریکی افواج کی بکتربند گاڑیاں آمنے سامنے کھڑی ہیں‘ تُرک فوج کا قافلہ آگے بڑھنے کے لیے ہدایات کا منتظر ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مشرقی صوبے قامشلی میں اسدی فوج اور امریکی فوج کی ایک گشتی پارٹی کے درمیان جھڑپ ہوگئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ ہلاک ہونے والا شخص کون تھا۔ اسدی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ امریکی فوجی ہے، جب کہ شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ فوری طور یہ واضح نہیں کہ مرنے والا شہری ہے یا اسدی فوج کا کوئی مسلح وفادار۔ امریکی اور اسدی فوجیوں میں یہ جھڑپ بدھ کے روز قامشلی کے نواحی واقع گاؤں خربت آمو میں ہوئی۔ شامی مبصر کے مطابق امریکی فوجیوں کی گشتی پارٹی جب وہاں پہنچی تو اسدی فوج کے مسلح وفاداروں نے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ اس کے بعد امریکی فورسز نے ایک گرینیڈ کا دھماکا کیا اور ایک شخص کو گولی مار دی۔ شامی مبصر نے اس واقعہ کے بعد فضا میں ایک امریکی جیٹ کی پرواز کی بھی اطلاع دی ہے۔ پھر وہاں روس کی ایک گشتی پارٹی پہنچ گئی تھی اور اس نے صورت حال کو ٹھنڈا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے بعد امریکی فوجی وہاں سے روانہ ہوگئے تھے۔ دوسری جانب امریکی نمایندہ خصوصی برائے شام جیمز جیفری اور ان کا وفد ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچا۔ جیمز جیفری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ نیٹو میں امریکا کے اتحادی ترکی کو ادلب میں روس اور اسدی فوج کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ ادلب میں 3 سے 10 فروری کے درمیان شہید ہونے والے تُرک فوجی جوانوں کے لیے اظہار تعزیت کرنے والے جیفری نے کہا کہ ہم حکومت ترکی کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے اور ممکنہ حد تک ترکی کی مدد کے خواہاں ہیں۔ جیمز جیفری کے سینئر مشیر رچ آوٹزن نے بھی اس موقع پر بتایا کہ بطور امریکا اسد انتظامیہ کے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ہم اس معاملے سے زیادہ سے زیادہ باہمی تعاون کے خواہاں ہیں۔ اس بنا پر ہم تُرک اتحادیوں کے ساتھ قریبی روابط کو جاری رکھیں گے۔ ادھر تُرک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ اسدی فوج کو کہیں بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گے۔ انقرہ میں پارلیمان سے خطاب کے دوران تُرک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ اب اگر ایک بھی تُرک فوجی زخمی ہوا تو اسدی فوج کو کہیں بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گے اور ضرورت پڑنے پر فضائی حملے بھی کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے