ترک صدر رجب طیب اردوان نے شام کے صوبے ادلب میں فوجی آپریشن شروع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خطے کی دیگر طاقتیں اس معاملے پر ناکام رہتی ہیں تو ترکی اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام خدشات کا ازالہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
انقرہ میں حکمران جماعت جسٹس اینڈڈیولپمنٹ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ ادلب میں ہم سابقہ روایات کے تحت کسی بھی شب اچانک فوجی آپریشن شروع کرسکتے ہیں، اسے میری طرف سے دھمکی نہیں آخری وارننگ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ادلب کے معاملے پر خطے کے دیگر ممالک ترکی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو ہم اپنی سلامتی اور سیکورٹی کے لیے تمام خدشات کو دور کرتے ہوئے کارروائی کریں گے جس کے لیے ترکی کسی قسم کی کارروائی سے دریغ نہیں کرے گا۔
طیب اردون کا کہنا تھا کہ سچ بتاؤں کہ ادلب آپریشن کچھ وقت کی بات ہے، ترکی ادلب کو بشارالاسد اور اس کے حامیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا،ادلب کا معاملے ترکی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
