English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران پارلیمانی انتخابات میں حکمران طبقے کا پلڑا بھاری

القمر

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکمراں طبقے کا پلڑا بھاری رہا۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والی رائے شماری میں حکومت کے حامی شہریوں کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا۔ انتخابات سے قبل ہی 7ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا، جن میں اکثریت روشن خیال افراد کی تھی۔ ان میں پارلیمان کے وہ 90ارکان بھی شامل تھے، جو 2016ء کے بعد ہونے والے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے بعد آج ممکنہ طور پر حتمی نتائج کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں 55ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ ایرانی میڈیاکے مطابق پارلیمان کی 290 نشستوں کے لیے 7 ہزار 150 امیدوار وں کو اجازت دی گئی،جب کہ 5کروڑ 80 لاکھ افراد کو ووٹ ڈالنے کے لیے اہل قرار دیا گیا۔ ایرانی مذہبی رہنما خامنہ ای کا کہنا تھا کہ انتخابات سے ایران مخالف سازشوں کی شکست ہوگی۔ قبل ازیں ایرانی قیادت اور سرکاری میڈیا نے شہریوں سے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور مذہبی فریضہ سمجھ کر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔ پولنگ شروع ہونے کے فوراً ہی بعد خامنہ ای نے تہران میں اپنے دفتر کے قریب مسجد میں واقع پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالا۔ انہوں نے کہا ہراس شخص کو جسے ملک کے مفادات کا خیال ہے، الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔ دوسری جانب امریکا نے 5 ایرانی عہدے داروں کو بلیک لسٹ کرکے ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ ایران کی گارڈین کونسل کے سربراہ احمد جنتی، ماہرین کونسل کے رکن محمد یزدی، پاسداران کونسل کے رکن علی کدخادائی، سیامک راہ بیگ اور حسن صداگی مقدم پابندیوں کی زدمیں آئیں گے۔
تہران: پارلیمانی انتخابات کے دوران ایرانی شہری حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں‘ چھوٹی تصاویر رہبر اعلیٰ خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کے ووٹ ڈالنے کی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے