انتظامیہ نے ہرکولیس نامی جہاز کو کراچی بندرگاہ سے ہٹا کر پورٹ قاسم پر لنگر انداز کردیا جس پر مزدور سراپا احتجا بن گئے ٗ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
کے پی ٹی ورکرز کی نمائندگی کرنیوالی تمام تنظیموں نے احتجاج میں حصہ لیا ٗ نیٹی جیٹی پل پر دھرنا بھی دیا گیا جس سے ٹریفک جام ہوگیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کی بندرگاہ پر سویابین لے کر آنے والے بحری جہاز ہرلولیس کو کراچی کی بندرگاہ سے ہٹا کر پورٹ قاسم پر لنگر انداز کر دیا گیا، جہاز کی پورٹ قاسم منتقلی اور کراچی پورٹ پر آئندہ کسی بھی قسم کا بلک کرین کا رگو نہ اتارنے کے مبینہ فیصلے کے خلاف کراچی پورٹ پر کام کرنے والے مزدور جمعہ کو سراپا احتجاج بن گئے، کے پی ٹی ورکرز کی نمائندگی کرنے والی تمام یونیز نے اجتماعی مظاہرہ کیا ، مظاہرین کے پی ٹی کی عمارت کے باہر جمع ہوگئے اور کارگو پورٹ قاسم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کے پی ٹی ہیڈ آفس سے ریلی کی شکل میں نیٹی جیٹی پل تک مارچ کیا اور نیٹی جیٹی پل پر دھرنا دے دیا جس کی وجہ سے کیماڑی جانے والے راستہ سمیت مائی کلاچی، ٹاور ، ماڑی پور روڈ تک ٹریفک جام ہوگیا۔ کراچی پورٹ سے کارگو کی نقل و حرکت بھی کئی گھنٹے تک معطل رہی۔اس موقع پر ورکرز یونین کے عہدے داران اور رہنمائوں نے خطاب کیا ، مزدور رہنمائوں گوہر حسن ، نوید بیگ، شہریار ،رزاق میمن اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل کوئلے کی ہینڈلنگ کراچی پورٹ سے پورٹ قاسم منتقل کی گئی اور اب سویابین کی گرد کو ہلاکتوں کا ذمے دار قرار دے کے تمام گرین اور اجناس کی ہینڈلنگ بھی پورٹ قاسم منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جس سے بندرگاہ پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔

