English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مصر ،حسنی مبارک دنیا سے چل بسے

القمر

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر کے سابق آمر اور فوجی صدر محمد حسنی مبارک طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 91برس تھی۔ ان کے بیٹے علا مبارک نے ٹوئٹر پر منگل کے روز ان کے انتقال کا اعلان کیا۔حسنی مبارک 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں معزولی کے بعد سے علیل تھے۔ انہیں ہفتے کے روز طبیعت بگڑنے پر قاہرہ کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کیا گیا تھا۔ علا مبارک نے پیر کے روز بتایا تھا کہ ان کے والد کی سرجری ہوئی ہے اور ان کی حالت بہتر ہے، لیکن ایک روز بعد وہ دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ یاد رہے کہ وہ مصر پر 30 برس تک مطلق العنان حکومت کرتے رہے۔ انہوں نے یہ عہدہ 1981ء میں صدر انور سادات کے قتل ہونے کے بعد سنبھالا تھا۔ وہ مصر کے چوتھے صدر تھے۔ مقتول صدر انورسادات کے دور میں وہ نائب صدر اور وزیر اعظم بھی رہے۔ مصر میں 2011ء میں ہونے والے شدید مظاہروں کے بعد حسنی مبارک کو اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ عرب بہار کے دوران عوامی تحریک کے سلسلے میں اقتدار کی محرومی کے بعد وہ پہلے ایسے حکمران تھے، جنہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عرب بہار کی وجہ سے مصر کے علاوہ تیونس میں بھی کئی دہائیوں تک برسراقتدار رہنے والے آمر زین العابدین بن علی کو حکومت چھوڑ کر ملک سے بھاگنا پڑا تھا۔ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران 850 افراد جاں بحق اور 6 ہزار سے زائد زخمی ہو ئے تھے۔ ان پر سب سے پہلا مقدمہ عوامی تحریک کے دوران بے گنا افراد پر گولیاں چلانے کا بنایا گیا تھا۔ انہیں کرپشن الزامات کے مقدمات کا بھی سامنا رہا۔ 2015ء میں اعلیٰ عدالت نے مبارک، ان کے بیٹوں اور ان کے کاروباری شراکت دار پر عائد بدعنوانی کے الزامات کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مبارک کو بدعنوانی کے ایک اور مقدمے میں جرائم ثابت ہونے پر 3 سال کی سزائے قید بھی سنائی گئی تھی، جسے بعد میں موقوف کر دیا گیا تھا۔ حسنی مبارک علالت کی وجہ سے ملٹری اسپتال میں زیر علاج رہے۔ صدارت سے علاحدگی کے بعد حسنی مبارک میڈیا سے دور رہے۔ انہیں عدالت میں ملزمان کے چیمبر میں بیٹھے دکھایا گیا۔ 2014ء میں انہوں نے کویتی صحافی فجر السعید کو انٹرویو دیتے ہوئے اس وقت کے فوجی سربراہ عبدالفتاح سیسی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ملک کی صدارت سنبھالنے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ عوام سیسی کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں اور عوامی خواہش پوری ہو کر رہے گی۔ حسنی مبارک کو صحت کے مختلف عوارض کا بھی سامنا رہا۔ 2011ء میں مصری انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا تھا کہ وہ معدے یا لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہیں، لیکن خبر عام ہونے پر مصری حکومت نے تردید کی تھی۔ اقتدار سے علاحدگی کے بعد انہیں شدید ذہنی دباؤ لاحق رہا۔ عارضہ قلب میں بھی مبتلا تھے۔ فوجی اسپتال میں گرنے سے ٹانگ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔ انہوں نے بیوہ سوزان مبارک کے علاوہ 2 بیٹے جمال اور علا سوگوار چھوڑے۔ حسنی مبارک صوبہ منوفیہ کے قصبے کفر مصیلحہ میں 4 مئی 1928ء کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے مصر کی فوجی اکیڈمی اور فضائیہ اکیڈمی میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ انہوں نے مصری فضائیہ میں 1952ء فلائٹ انسٹرکٹر کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ انہیں 1968ء میں فضائیہ اکیڈمی کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 2 سال تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔ 1972ء میں انہیں مصری فضائیہ کا کمانڈر انچیف اور نائب وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ 1975ء میں انور السادات نے انہیں نائب صدر مقرر کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے