ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب کی ایک فوجی عدالت نے 8 سعودی شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی اور ریاض میں 2 غیرملکی سفارت خانوں کی نگرانی کے جرم میں قصور وار قرار دے کر موت اور قید کی سزائیں سنا دیں۔ سعودی عرب کی اسٹیٹ سیکورٹی عدالت نے جاسوسی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر ایک شخص کو موت اور 7 کو قید کی سزاؤں کا حکم دیا ہے۔ سزائے موت پانے والے مجرم نے سعودی عرب کی قومی سلامتی سے متعلق ایرانی انٹیلی جنس کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ اس کے علاوہ اس نے 2غیرملکی سفارت خانوں کے داخلی دروازوں، اخراج اور سیکورٹی کی موجودگی سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ کن ممالک کے سفارت خانے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کو حملے میں نشانہ بنایا تھا اور اس نے 3 جنوری کو بغداد میں القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد 4 امریکی سفارت خانوں پر حملوں کی سازش بھی کی تھی۔ قید کی سزا پانے والے بعض مجرموں نے ایران کو سعودی عرب کے داخلی امور اور معیشت سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ انہیں ان کی ان خدمات پر مالی فائدہ دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- پی ٹی آئی میں ’مارٹونگے‘ گالم گلوچ کرتے ہیں، شیرافضل نے نئی اصطلاح متعارف کرادی
- وزیراعظم اور جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پیٹرولیم لیوی پر کمیٹی قائم
- عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا، عطا تارڑ
- جنوبی وزیرستان :انگور اڈہ میں افغانستان سے فائرنگ و گولہ باری،ایک شخص جاں بحق ،5 زخمی
- حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3روپے کمی کردی، ڈیزل سوا 2 روپے مہنگا