کابل: افغان طالبان نے افغانستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان امن معاہدے کے تحت طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے ورنہ حکومتی سیکورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہیں گے۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نےمتعدد مقامی کمانڈروں اور نیوز ایجنسیوں کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ افغان حکومت کا طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار پر افغان فوجی اور سیکورٹی اہلکاروں پر حملے ہوتے رہیں گے تاہم امریکی افواج کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح طالبان کی کچھ شرائط ہیں اسی طرح ہمارے بھی کچھ خدشات ہیں جنہیں اگر دور نہیں کیا گیا تو مطالبے پر عمل بھی ناممکن ہوگا۔
طالبان قیدیوں کی رہائی کے مسترد کیے جانے پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اشرف غنی سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 5 ہزار طالبان قیدیوں کو معاہدے کے تحت رہا کیا جائے۔ صدر اشرف غنی کو اپنے ملک اور عوام کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ دوحہ میں افغان امن معاہدے میں 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کی بھی شق شامل ہےبھی تاہم افغان صدر اشرف غنی نے اس شق کو پر عمل درآمد سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کا معاملہ افغان حکومت پر منحصر ہے۔ جس پر طالبان نے قیدیوں کو رہا نہ کرنے کی صورت میں انٹرا افغان مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

