لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثنا اللہ کی آمدن سے زائد اثاثوں پر انکوائری میں ممکنہ حراست کے پیش نظر درخواست پر نیب کو گرفتاری سے روکتے ہوئے ملزم کو 5 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیاجبکہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں آمدن سے زائد اثاثوں پر نیب انکوائری میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس علی باقر نجفی کیسربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی، رانا ثنااللہ کی طرف سے امجد پرویز ایڈووکیٹ اور اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ درخواست میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ رانا ثنا اللہ نیب کی طلبی نوٹس کے بعد مسلسل نیب دفتر میں پیش ہو رہے ہیں۔ انسداد منشیات عدالت میں رانا ثنا اللہ کے سارے خاندان کی ساری جائیدادیں منجمد کی جا چکی ہیں۔ منشیات اسمگلنگ مقدمہ میں ضمانت پر رہا ہونے کے اگلے دن رانا ثنا اللہ کو نیب نے طلبی کا نوٹس بھجوا دیا، انکوائری کے دوران نیب کی طرف سے طلبی پر پیش ہوں گے، عبوری ضمانت منظور کی جائے۔ عدالت نے نیب کو رانا ثنا اللہ کو گرفتار کرنے سے روک دیا اور رانا ثنا اللہ کو 5 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے چیئرمین نیب سمیت دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کر کے 25 مارچ کو جواب طلب کر لیا۔
آمدن سے زائد اثاثہ کیس: رانا ثنا اللہ کی گرفتاری سے روک دیا گیا
القمر
