افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سمیت سیاسی رہنما حملے میں بال بال بچ گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں ایک تقریب میں شرکت کے دوران مسلح شخص نے فائرنگ کردی تاہم اس حملے میں عبداللہ عبداللہ محفوظ رہے ۔
خبررساں ادارے سے ٹیلیفونک گفتگو میں ترجمان فریدون خوازون نے بتایا کہ تقریب میں عبداللہ عبداللہ سمیت کئی سیاسی رہنما شریک تھے کہ اس دوران ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی اور ایک راکٹ علاقے میں آکر گرا، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی تاہم اس حملے میں عبداللہ عبداللہ کو بحفاظت نکال لیا گیا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے عبداللہ عبداللہ پر حملہ نہیں کیا۔
فوری طور پر حملے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں زخمی دکھائی دے ہیں، ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں جب کہ حملے کے بعد افراتفری پھیل گئی۔

