English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا بل پیش

القمر

 

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے ایک ریپبلکن سینیٹر نے سعودی عرب سے امریکی فوجیوں کی واپسی سے متعلق قانون سازی کے لیے بل پیش کردیا، جس کا مقصد سعودی حکومت پر خام تیل نکالنے کے معاملے میں دباؤ ڈالنا ہے، کیوں کہ بڑی مقدار میں تیل کی برآمد سے تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، جس سے امریکی آئل کمپنیوں اپنے ملک میں نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تیل پیدا کرنے والی امریکی ریاست لوزیانا کے سینیٹر بل کیسڈی کی طرف سے پیش کردہ بل میں 30 روز کے اندر سعودی عرب سے امریکی فوجی واپس بلانے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں 2 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی اسی نوعیت کا بل پیش کیا تھا۔ تاہم نئے بل میں فوجیوں کی جلد واپسی کے لیے کہا گیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر نے یہ بل ایک ایسے موقع پر پیش کیا ہے جب تیل پیدا کرنے والے ممالک کا گروپ اوپیک سعودی عرب اور روس کے درمیان تصفیے کے بعد ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے، جس کے تحت تیل کی پیداوار میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل کی ریکارڈ کمی کر دی جائے گی، جو کل عالمی پیداوار کا 15 فیصد بنتا ہے۔ اس سے تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلاؤ نے خام تیل کی مانگ کم کر دی ہے، لیکن سعودی عرب اور روس نے ایک دوسرے سے مقابلے میں اپنی پیداوار بہت زیادہ بڑھا دی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 18 سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ اس کا نقصان ان کمپنیوں کو بھی ہو ریا ہے جو امریکا میں کام کرتی ہیں اور ان کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ سینیٹر کیسڈی کا کہا ہے کہ دوسروں کو تحفظ فراہم کرنے والے فوجیوں کو ہٹانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دوستی اور مدد یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ معاملہ ہے۔ سینیٹر کیسڈی کے بل کو منظوری کے لیے بحث مباحثے کے بعد کئی منازل طے کرنا ہوں گی، جب کہ آخر میں اس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط ضروری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے