بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان میں گزشتہ ہفتے لاک ڈاؤن، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج نئی شدت کے ساتھ ملک بھر میں پھیل گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے باوجود لبنان میں گزشتہ شب ہزاروں افراد ملک کے کئی بڑے شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اس دوران میں مظاہرین نے ملک میں جاری اقتصادی بحران اور ناکام حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف سڑکیں پر کئی مقامات پر ٹائروں کو آگ لگا دی اور سڑکیں بلاک کردیں، تاہم پولیس نے بعد ازاں کارروائی کے بعد مظاہرین کو منتشر کیا۔ واضح رہے کہ لبنان میں معاشی بدحالی کے باعث گزشتہ برس اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے سے عوام حکمراں جماعت اور اشرافیہ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ یاد رہے کہ لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیاں بند ہونے کے خلاف امریکا میں بھی گزشتہ ہفتے کئی ریاستوں میں احتجاج کیا گیا تھا۔ دوسری جانب لبنان میں پروگریسو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ولید حنبلاط نے کہا ہے کہ انہیں اور ان کی جماعت کو صدر میشل عون اور حزب اللہ کے طرز سیاست اور رویے سے قطعی اتفاق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں، ہوائی اڈوں اور بندر گاہوں پر حکومت کا کنٹرول نہیں، انہیں کوئی اور قابو کیے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامن اور جمہوری طریقے سے مزاحمت جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ لبنان کو اس وقت 1975ء سے 1990ء کے درمیان لڑی گئی خانہ جنگی کے بعد ملکی تاریخ کے بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 45 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
لبنان میں احتجاج کی نئی لہر ،حکومت کیخاف ملک بھر میں مظاہرے
القمر
