کابل(اے پی پی،صباح نیوز،آن لائن) افغانستان میں فوجی عدالت کے قریب دھماکا،10 افراد ہلاک،فوجیوں سمیت48 افراد زخمی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبہ پکتیا کے علاقے گردیز میں واقع صوبائی فوجی عدالت اور فنانس و ٹیکس دفاتر کے باہر زور دار کار بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں10 افراد ہلاک اور 48 زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ زخمیوں میں 5 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق صوبائی عہدیدار نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکا جمعرات کی صبح ساڑھے 8 بجے صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں اس وقت ہوا جب دھماکا خیزا مواد سے بھرے ٹرک نے وزارت دفاع کے صوبائی ڈائرکٹریٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس پر صوبائی ڈائرکٹریٹ کے قریب فوجی اہلکاروں کے روکنے پر حملہ آور نے ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں10 افراد جاں بحق اور فوجی اہلکاروں سمیت 46 افراد زخمی ہوگئے تاہم جاں بحق اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ دھماکے سے قریبی صوبائی فوجی عدالت، فنانس اینڈ ٹیکس دفاتر سمیت متعدد عمارتوں، دکانوں اور گاڑیوںکو نقصان پہنچا۔ خیال رہے کہ یہ حملہ اس واقعے کے 2 روز بعد سامنے آیا جس میں افغانستان میں جنازے اور میٹرنٹی ہوم پر ہونے والے حملوں میں خواتین اور نومولود بچوں سمیت 56 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائیںنے اس حملے کی ذمہ داری طالبان اور کالعدم لشکر طیبہ کے اتحادی حقانی نیٹ ورک پر عائد کی تاہم یہ گروپ بہت کم حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ادھر پکتیا صوبے، جہاں گردیز شہر موجود ہے، وہاں کے فوجی ترجمان ایمل خان مہمند کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا بارودی مواد سے بھرے ٹرک کے ذریعے کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک جبکہ 14 زخمی ہوگئے۔
افغانستان فوجی عدالت کے قریب دھماکا‘10افراد ہلاک
القمر
