English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برطرفیاں: کیا عمران خان اور پی سی بی ایک پیج پر نہیں؟

القمر

شفقنا اردو: وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پچھلے دنوں اعلان کیا تھا کہ کرونا (کورونا) وبا کے دوران کسی کو بھی ملازمت سے برطرف نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی ادارے نے ایسا کیا تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

مگر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کم آمدنی والے ملازمین کو برطرف کر کے ایک طرف وزیراعظم کے دعوے کی نفی کردی اور دوسری طرف نئی تقرریاں کر کے کسی مالی دشواری کے عنصر کو بھی خارج از بحث کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی دوہری پالیسی نے عوامی حلقوں میں سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بورڈ اپنے سرپرست اور وزیراعظم عمران خان کے بیانیے کے خلاف عمل پیرا ہے؟

بورڈ نے ایک طرف بچت کے نام پر ملازمین کو برطرف کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری طرف بھاری معاوضوں پر ملازمین کو بھرتی بھی کیا جا رہا ہے۔

برطرف ہونے والوں میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز ہارون رشید، مدثر نذر اور آغا زاہد ہی نہیں بلکہ نچلے درجے کے وہ درجنوں ملازمین بھی شامل ہیں جن کی مجموعی ماہانہ تنخواہ بورڈ کے کسی اعلیٰ افسر سے بھی کم ہے ۔

پی سی بی میں جدت اور اعلیٰ معیار کے دعووں کے ساتھ آنے والے چیئرمین احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان نے معیار کے پیمانے شاید یہ مقرر کیے ہیں کہ ملازمین کی تعداد کم اور معاوضے بھاری کردیے جائیں۔

موجودہ عالمی وبا کرونا کے دوران دنیا بھر میں کرکٹ کی مصروفیات رک گئی ہیں اور تمام بورڈز کفایت شعاری پر عمل پیرا ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ اخراجات میں کمی کی جائے اور کوئی نئی تقرری نہ کی جائے۔ ان کے پیش نظر سب سے زیادہ مقدم عملی کرکٹ کا آغاز ہے اور اس کے ساتھ بورڈز کے ملازمین کی تنخواہیں وقت پر ادا کی جائیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ان سب کے برعکس نرالی پالیسی پر گامزن ہے۔ آمدنی کے فقدان اور عملی کرکٹ میں تعطل کے باوجود نئی تقرریاں کر رہا ہے اور ان کے لیے بھاری معاوضے بھی مختص کیے گئے ہیں۔

گذشتہ چار ماہ سے مفقود کرکٹ کے باوجود ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس کے لیے ہر ہانڈی میں نمک کی طرح موجود ندیم خان کو مقرر کیا گیا ہے، جنھیں ابھی یہ نہیں معلوم کہ کرکٹ کب شروع ہوگی اور ان کا کیا کردار ہوگا۔

گھر بیٹھ کر 12 لاکھ روپے لینے والے ندیم خان کے تجربے اور صلاحیتوں پر بھی بڑے سوالات ہیں۔ ایک ٹیسٹ کھیلنے والے ندیم خان ہر دور میں کسی نہ کسی پوزیشن پر رہتے ہیں۔ ان کی تقرری پر بورڈ نے ان کے پروفائل میں معین خان اکیڈمی اور رمضان کارپوریٹ کرکٹ کا ذکر کیا ہے حالانکہ معین خان اکیڈمی نے آج تک کوئی قابل ذکر کھلاڑی پاکستان کو نہیں دیا ہے۔

جبکہ رمضان کرکٹ اپنی نوعیت کے لحاظ سے متنازع ہے اور بورڈ اس پر پابندی لگا چکا ہے۔

مناسب ہوتا کہ اس پوزیشن پر کسی تجربہ کار کھلاڑی کو لایا جاتا جس سے کرکٹ اور بورڈ دونوں کو فائدہ ہوتا۔

دوسرا کے موجد ثقلین مشتاق کو بھی بھاری معاوضے پر ڈائریکٹر انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ پلئیرز رکھا گیا ہے۔ ثقلین مشتاق بلاشبہ ایک زبردست سپنر تھے اور پاکستان نے بہت سارے میچز ان کی کارکردگی کی بدولت جیتے ہیں لیکن بحیثیت کوچ ان کی کارکردگی کوئی خاص نہیں ہے۔ وہ انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی کوچنگ کرچکے ہیں لیکن اب تک کوئی اپنے جیسا بولر نہیں بنا سکے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے گرانٹ بریڈبرن جو اب تک قومی ٹیم کے ساتھ فیلڈنگ کوچ تھے ان کو مزید بھاری معاوضے پر ہائی پرفارمنس کوچ رکھا گیا ہے۔ اوسط کارکردگی کے حامل گرانٹ اکیڈمی میں کیا کریں گے؟ اس کی زیادہ توقع نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے پورے کوچنگ کیر یئر میں ایک اوسط درجے کی ٹیم سکاٹ لینڈ ہے جس کا انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی خاص مقام نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے