English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر امریکی پابندیاں

القمر

واشنگٹن/ دی ہیگ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے خلاف تفتیش کرنے والے عالمی فوجداری عدالت کے اہل کاروں کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے دی۔ ٹرمپ نے اس حوالے سے جمعرات کی شب ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے۔ یہ تفتیش کار افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں جنگی جرائم کی تحقیقات کررہے تھے۔ امریکا نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے روس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دی ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت سے ساز باز کی، جس نے امریکا کی حاکمیت اور خود مختاری کو چیلنج کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم ایک جعلی عدالت کی جانب سے اپنے لوگوں کو خطرے میں ڈالنے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ قدم عالمی عدالت انصاف کی جانب سے افغانستان میں امریکی فوج کے مبینہ جنگی جرائم کی تفتیش روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی فوجداری عدالت نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ امریکی اقدام سے وسیع پیمانے پر ڈھائے گئے مظالم و متنازع کارروائیوں کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہو گا۔ یورپی یونین نے بھی امریکی صدر کے اس اقدام پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ جب کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی واشنگٹن کے لیے ڈائریکٹر اینڈریا پریسو کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کی توہین کا اظہار ہے اور یہ رکاوٹ ڈالنے کی ایک کوشش کی ترجمانی کرتا ہے۔ ایوانِ نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کو بھیجے گئے خط میں ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا حکم نامہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو وزیر خزانہ اسٹیو منوچن کے مشورے سے یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عالمی عدالت کے ان ملازمین کے امریکا میں موجود اثاثوں کو منجمد کر دیں، جو امریکی فوج کے خلاف تحقیق میں مصروف ہیں۔ حکم نامے میں مائیک پومپیو کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی امریکا میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے