اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ مون سون کے سیزن میں ملک کو 3 بڑے خطرات درپیش ہیں جن میں تمام بڑے شہروں میں سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرز پھٹنے اور بارش کے دوران ٹڈیوں کے جاری حملے مزید سنگین ہونے کے خدشات شامل ہیںتمام صوبے اور بڑے شہروں کے تمام متعلقہ حکام ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلیے تیاریاں مکمل کرلیں اوربڑے شہروں میں واٹر کورسز اور نالوں کی فوری طور پر صفائی کی جائے ۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے مون سون سے قبل کی تیاریوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بڑے شہروں میں سیلاب کا خطرہ ہے اور میں کراچی میں حکام سے درخواست کروں گا کہ وہ تمام نالوں کی صفائی کریں جبکہ سکھر،
حیدرآباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی، لاہور، جہلم اور نوشہرہ کو بھی مقامی حکام کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں ملک بھر میں ٹڈی دل کے حملے میں شدت اور مون سون کے سیزن کے دیگر چیلنجز پر قابو پانے کیلیے ایک مربوط حکمت عملی کا مطالبہ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اس سال مون سون کی بارشیں پورے ملک میں معمول سے 10 فیصد زیادہ متوقع ہیں جبکہ سندھ اور کشمیر میں عام بارشوں سے 20 فیصد زیادہ بارشوں کا امکان ہے جس کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں سیلاب کے زیادہ امکانات ہیں۔ اجلاس میں این ڈی ایم اے کے ذریعے تیار کردہ قومی ہنگامی منصوبہ 2020ء پیش کیا گیا جس میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے تمام عہدیداروں اور آفات سے نمٹنے کے شعبے میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، این جی اوز اور آئی این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور قدرتی آبی راستوں پر ترقیاتی کام کے نتیجے میں بھی پورے ملک کے شہروں میں زبردست سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے گزشتہ سال کراچی میں آنے والے سیلاب کا حوالہ دیا اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلیے تمام شہروں کے خطرناک علاقوں کے نقشے کی تیاریوں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں روایتی تیاریوں کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز مکمل طور پر تیار ہوں گی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔
بارش کے بعد سیلابی صورتحال سے ٹڈیوں کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا،این ڈی ایم اے
القمر
