راولپنڈی (اے پی پی،خبر ایجنسیاں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن کے ساتھ گلگت بلتستان میں پاکستانی فوجیوں کی اضافی تعیناتی اور چین کی طرف سے ا سکردو ائر بیس کے مبینہ استعمال سے متعلق بھارت کے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی خبریں جھوٹ پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور حقیقت کے برعکس ہیں۔ جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس طرح کی کوئی نقل و حرکت یا اضافی افواج کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں چین کے فوجیوں کی موجودگی کی بھی واضح انداز میں تردید کرتے ہیں۔بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایل او سی پر 20 ہزار کے قریب اضافی فوجی تعینات کیے ہیں۔اکنامک ٹائمز کی
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے تعینات کردہ فوجیوں کی تعداد بالاکوٹ واقعے کے بعد سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ خیال کیا جارہا ہے خطے میں پاکستانی ریڈارز بھی مکمل طور پر متحرک ہیں۔اس میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ چین اور پاکستانی حکام کی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور چین، مقبوضہ کشمیر میں تشدد کو ہوا دینے کے لیے البدر تنظیم سے بھی مذاکرات کررہا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس وزیراعظم عمران خان کے بیان کے بعد سامنے آئی ہیں، 30 جون کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارت ملوث ہے۔علاوہ ازیں بھارت اور چین کے مابین لداخ کے علاقے میں وادی گلون میں متنازع ایل اے سی پر تنازع جاری ہے۔گزشتہ ماہ چین اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے تھے اور یہ 45 سال کے دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان سب سے خونریز جھڑپ تھی۔چین اور بھارت دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر وادی گلوان میں فورسز کے مابین جھڑپ شروع کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
