


برلن ( رپورٹ : مطیع اللہ) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہاہے کہ ایک سال سے زائد عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں جاری غیر اعلانیہ کرفیو نے عوام کوزیادہ جذباتی کردیا ہے جوکسی بھی وقت لوہے کے چنے ثابت ہوسکتے ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے ہی گھروں میں پابند سلاسل ہیں ‘ 70 سال سے جاری ظلم و ستم میں ہندوستانی فوج و حکمرانوں نے نازیوں کو پیچے چھوڑ دیا ہے جبکہ پچھلے ایک سال میں بھارتی جابرا نہ تسلط و ظلم میں مزید اضافہ ہوا نوجوانوں کو گھروں سے اٹھاکر شہید کرنا، ہندوؤں کو کشمیر میں بسانے اور جوان لڑکیوں کو حبس بے جا رکھنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے تحریک آزادی اور نوجوانوں میں لاوا پھوٹ پڑا ہے جس کو بھارتی افواج سمیت دنیا کی کوئی طاقت سنبھال نہیں سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یورپی یونین کے ممالک میں مقیم پاکستانی و تحریک کشمیر کے نمائندوں کے زوم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ ہم نے انسانی حقوق کے ہر دروازے کو کھٹکھٹایاہے۔قبل ازیں عنصرمنظور حسین نے زوم کانفرنس کاباقائدہ کا اغاز کرتے ہیں زوم کانفرنس کا ایجنڈا پیش کیا اور شرکا کو خوش آمدید کہا اس موقع پرتحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ،تحریک کشمیر یوکے کے مرکزی رہنما فہیم کیانی نے‘ تحریک کشمیر جرمنی کے رہنماؤں فاروق بیگ، محمد ریاض شاہد، پولینڈ کے سجاد سمیت یورپ بھر کے نمائندوں نے شرکت کیزوم کانفرنس میں تحریک کشمیر یورپ کے مرکزی رہنماؤں نے جدوجہد آزادی کو تیز کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو مزید بہتر انداز میں اٹھانے کا اعلان کیا۔
