واشنگٹن (خبر ایجنسیاں)سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرلے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی ڈیل میں سعودی عرب بھی شامل ہو جائے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاوس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جلد ہی کہیں گے کہ امریکا ایران کے خلاف معطل کی گئی سابقہ تمام پابندیوں کی بحالی چاہتا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق روس اور چین سمیت دیگر ممالک کی جانب سے امریکی اقدام کی شدیدمخالفت متوقع ہے۔ ایران ایٹمی ڈیل کے بعد تہران کے خلاف پابندیاں معطل کی گئی تھیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس امن معاہدے کے تحت یو اے ای کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت زیر غور ہے۔صحافی کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ، کیا متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کردے گا جس پر امریکی صدر نے جواب دیا، میرا خیال ہے سعودی عرب بھی اس معاہدے میں شامل ہوجائے گا۔ایک اور غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا نہ صرف سعودی عرب بلکہ ایران کو بھی اسرائیل امن معاہدے کا حصہ بننا پڑے گا، مجھے لگ رہا ہے دیگر عرب ممالک بھی اس امن معاہدہ کا حصہ ہوں گے اور آخر میں ایران کو بھی اس میں شامل ہونا ہوگا۔دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ بھی متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، اس سے مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک کے مشترکہ حریف ایران کے اثر ورسوخ کو بھی کم کیا جاسکے گا۔اس سے قبل سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ فلسطین سے امن معاہدے کے بغیر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی گنجائش نہیں ہے۔
سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرلے گا‘ ڈونلڈ ٹرمپ
القمر
