میانمار سے فرار ہونے والے دو فوجیوں نے میانمار فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا اعتراف کر لیا ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں سپاہیوں نے اپنے وڈیو بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اور دیگر فوجیوں نے اپنے افسران کے کہنے پر روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا، اجتماعی قبریں بنائیں، روہنگیا خواتین کی عصمت دری کی اور متعدد گاؤں کو تباہ کیا۔
فوجیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے 30 روہنگیا مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام میں حصہ لیا اور بعد میں انہیں ایک سیل فون ٹاور اور فوجی بیس کے قریب اجتماعی قبر میں دفنا دیا۔
واضح رہے کہ اگست 2017 میں میانمار فوج نے سیکڑوں بچوں سمیت چھ ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا جس کے بعد 10 لاکھ سے زائد روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

