مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک) صہیونی ریاست اسرائیل نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی آڑ میں مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی سازش رچا لی۔دنیا ٹی وی کی ایک ر پورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدے میں متنازع شق شامل ہے جس کے تحت یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت ہو گی ۔ سفارتی تعلقات کی آڑ میں مسجد الاقصیٰ کی تقسیم کی کوششیں سامنے آنے لگی،اسرائیل اور عرب ممالک کے ساتھ امن معاہدے میں انتہائی متنازع شق شامل کر لی گئی،معاہدے کے بعد یہودیوں کو بھی مسجد الاقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی۔ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے باوجود ابھی تک یہودیوں کو مسجد الاقصیٰ کی حدود میں داخلے کی اجازت نہیں ہے تاہم نئے معاہدوں کے تحت یہودیوں سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مسجدالاقصیٰ میں عبادت کی اجازت ہوگی،اس متنازع شق پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔مسجد الاقصیٰ کا انتظام و انصرام فی الحال اردن کے کنٹرول میں ہے جو وقف بورڈ کی مشاورت سے مسجد سے متعلق فیصلے کرتا ہے۔ علاوہ ازیں خلیجی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیریسٹریئل یروشلم(ٹی جی) نامی این جی او کی ایک خصوصی رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدوں سے مسجداقصیٰ کی تقسیم ممکن ہوگئی۔سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے خلیجی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں سے مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔ رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں میں استعمال کی گئی زبان سے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ختم ہونے کی راہ نکلتی ہے۔
اسرائیل سے معاہدہ : یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت ۔فلسطین میں یوم الغضب
القمر
