دفتری بحث تشدد میں تبدیل ہوگئی۔ بحث کے دوران دوست نے ساتھی ملازم کی انگلی منہ سے چبا کر اسے ہاتھ سے الگ کردیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں پیش آیا جہاں ایک دوست دفتر میں بحث کے دوران آپے سے باہر ہوگیا اور طیش میں آکر رفیقِ کار کی انگلی چبا کر ہاتھ سے الگ کردی۔
متاثرہ ملازم موہت کمار اور ہیمنت سدھارتھ ایک انشورنس کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ پچھلے ہفتے دونوں کام کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔
کام مکمل کرنے کے بعد دونوں واپسی کے سفر پر تھے۔ موہت کمار نے کہا کہ اب وہ گھر جانا چاہتا ہے لیکن ہیمنت سدھارتھ نے اسے اجازت نہیں دی۔ ہیمنت نے کہا کہ ابھی ایک اور ارجنٹ کام کرنا باقی ہے اور تمہیں لازمی میرے ساتھ چلنا ہے۔
سفر کے دوران دونوں ایک دوسرے سے بحث کرتے رہے۔ بحث نے جب شدت اختیار کرلی تو ہیمنت سدھارتھ نے موہت کمار کا ہاتھ پکر کر اس کی انگلی چبا ڈالی اور انگلی کو ہاتھ سے جدا کردیا۔
موہت کمار کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ موہت کمار نے ہیمنت سدھارتھ کے خلاف مقدمہ درج کردیا ہے جس میں موہت کمار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہیمنت سدھارتھ نے بحث کے دوران گالم گلوچ کی، مجھے تھپڑ رسد کیے اور میری انگلی کو نقصان پہنچایا۔
پولیس کے مطابق موہت کمار کا علاج نجی اسپتال میں جاری ہے جب کہ ملزم ہیمنت سدھارتھ کی گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی۔

