ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش نے زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا اعلان کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق حکومت نے ملک میں زیادتی کے واقعات بڑھنے پر شروع ہونے والے کئی روزہ مظاہروں کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس قانون کی منظوری بنگلادیشی کابینہ نے پیر کے روز دی۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو خود اپنی پارٹی کے اندر سے بھی اس حوالے سے دباؤ کا سامنا تھا۔ وزیر انصاف انیس الحق نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ یہ قانون منگل 13 اکتوبر کو صدر کی جانب سے جاری کر دیا جائے گا۔ وزیرانصاف انیس الحق نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت زیادتی سے متعلق قوانین کو تبدیل کرکے مجرموں کو سزائے موت دینے کی سفارش کی جائے گی، جب کہ مجرموں کو سزا دینے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ بنگلادیش میں حالیہ برسوں کے دوران زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے بنگلادیشی گروپ عین و شلیش کیندرا کے مطابق رواں برس جنوری سے ستمبر تک تقریباًایک ہزار ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں سے 20 فیصد اجتماعی زیادتی تھے۔ بنگلادیش میں تازہ مظاہروں کا سلسلہ ایک ہول ناک وڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں مردوں کا ایک گروپ ایک خاتون کا بدترین استیصال کررہا تھا۔ یہ واقعہ ملک کے شمال مشرقی علاقے نواکھلی میں پیش آیا تھا۔ بنگلادیش کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی تحقیقات کے مطابق وڈیو میں نظر آنے والی خاتون کو اس گروپ نے گزشتہ پورے سال کے دوران اسلحہ کے زور پر مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے 2013ء میں کرائے جانے والے ایک سروے کے مطابق بنگلادیش کے ایسے مرد جنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ زیادتی کے مرتکب ہو چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی قسم کے قانونی نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
بنگلادیش میں زیادتی کی سزا موت مقرر
القمر
