English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اپوزیشن جماعتیں استعفی دینگی تو ہم ان سیٹوں پر الیکشن کروا کے اور زیادہ مضبوط ہوجائیں گے، وزیراعظم

سیالکوٹ: وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ہم نیشنل ڈائیلاگ سےکبھی پیچھے نہیں ہٹے،اگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اپنی نشستوں سے استعفی دیا تو ہم ان سیٹوں پر الیکشن کروا کے اور زیادہ مضبوط ہوجائیں گے۔

قومی مسائل پر بات کرنے کی بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے، حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے تحریک عدم اعتماد کی صورت میں آئینی طریقہ موجود ہے، اپوزیشن جلسوں کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی، یہ گیارہ جماعتیں مل کر بھی تحریک انصاف کے جتنے بڑے جلسے نہیں کرسکیں اور نہ کرسکتی ہیں،

اگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اپنی نشستوں سے استعفی دیا تو ہم ان سیٹوں پر الیکشن کروا کے اور زیادہ مضبوط ہوجائیں گے،  ہماری سب سے بڑی جیت  ملک کو دیوالیہ ہونا سے بچانا تھا، جب حکومت سنبھالی تو ہمیں ہر شعبے اور ادارے میں تاریخی خسارہ ملا، ماضی کے حکمران ملک کو مقروض اور بینک کرپٹ کر کے گئے۔بدھ کو

سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم  نے کہا کہ میں نے پہلے دن کہا تھا پارلیمنٹ میں تمام سوالوں کے جواب دینے کو تیار ہوں، جمہوریت تب ہی چلے گی جب آپس میں مکالمہ ہوگا، ہم جو بھی بات کریں تو اپوزیشن مقدمات معاف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمات ان کے اپنے ہی دورِ حکومت میں بنائے گئے۔

عمران خان  نے کہا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہر معاملے پر بات کرنے کو تیار ہیں مگر کسی صورت بھی این آر او پر بات نہیں ہوگی کیونکہ کرپشن کے مقدمات معاف نہیں کیے جاسکتے، ہماری سب سے بڑی جیت  ملک کو دیوالیہ ہونا سے بچانا تھا، جب حکومت سنبھالی تو ہمیں ہر شعبے اور ادارے میں تاریخی خسارہ ملا، ماضی کے حکمران ملک کو مقروض اور بینک کرپٹ کر کے گئے۔

انہوں نے کہاکہ جب حکومت سنبھالی تو سب سے بڑا چیلنج ان حالات سے ملک کو نکالنا تھا جس میں ہم کامیاب ہوئے کیونکہ بڑی مشکل اور سخت اقدامات کے بعد اب ہماری معیشت اوپر جارہی ہے۔

عمران خان  نے کہا کہ  مجھے سب سےزیادہ خوشی عوام کو صحت انصاف کارڈ دینے کی ہے کیونکہ شوکت خانم اسپتال بنانیکا بھی یہی مقصد تھا کہ اچھے اسپتال میں غریب کو مفت علاج کی سہولیات میسر ہوں، حکومت پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن جلسوں کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی، یہ گیارہ جماعتیں مل کر بھی تحریک انصاف کے جتنے بڑے جلسے نہیں کرسکیں اور نہ کرسکتی ہیں، اگر حکومت بھیجنا ہے تو اس کا آئینی طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اگر تحریک عدم اعتماد پیش کرنا چاہتی ہیں تو اسمبلی میں آجائیں، اگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اپنی نشستوں سے استعفی دیا تو ہم ان سیٹوں پر الیکشن کروا کے اور زیادہ مضبوط ہوجائیں گے۔

وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدارکی کمزوری ہیوہ اپنی اچھائیوں کی تشہیر نہیں کر سکتے، یہی وجہ ہے کہ فردوس عاشق اعوان کو منصوبوں کی بہتر تشہیر کے لیے معاونِ خصوصی کا عہدہ دیا گیا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ دس سالوں میں صرف 6 ارب روپے کی وصولی ہوئی تھی جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے 27 ماہ میں 207 ارب روپے کی ریکوری کی، وصولیوں میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ بڑے بڑے مافیا ملے ہوئے تھے جو اب پکڑے جارہے ہیں۔

یہ مافیا سیاسی جماعتوں کی مدد کرتے تھے جبکہ وہ اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمینیں ہتھیا کر بیٹھے ہوئے تھے، جب ایسی صورت حال تھی تو انہیں جمہوریت کی فکر نہیں تھی اب جب سب پکڑے جارہے ہیں تو انہیں جمہوریت یاد آگئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے