اسلام آباد (میاں منیر احمد) پاکستان تحریک انصاف اپنے منشور سے پیچھے ہٹ گئی،روزگار دینے کے بجائے چھیناجا رہا ہے، حکومت وعدہ خلافی کررہی ہے، تبدیلی کے سبز باغ دکھا کر اقتدار حاصل کرنے والوں کو عوامی مسائل میں دلچسپی نہیں، مہنگائی اور بیروزگاری لمحہ فکرہے، بے روزگاری اور معیشت کی بدحالی کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے یہ کام محض نعروں اور طفل تسلیوں سے نہیں چلے گا‘ پاکستان میں غربت کی سطح سے نیچے جانے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔مستقبل میں روزگار کی فراہمی اور معیشت کی ترقی ایک سائنسی سبجیکٹ بن رہا ہے‘ نج کاری روزگار چھین رہی ہے جبکہ روزگار کے نئے ذرائع اور زراعت کی ترقی ہی ہمیں مستقبل کے مسائل سے بچا سکتی ہے، مستقبل کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے والی قومیں بے روزگاری پر قابو نہیں پاسکیں گی اور ان کی معیشت بھی بہتر نہیں ہوگی‘ معیشت کی بہتری کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے معیشت پر اثرات کا بھی مطالعہ بہت ضروری ہوگیا ہے‘ پاکستان کی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر مکمل بحث ہونی چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار سیاسی
رہنمائوں‘ غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں‘ سماجی کارکنوں اور مزدور رہنمائوں نے جسارت کے اس سوال کہ کیا عمران خان کی ریاست مدینہ میں نج کاری کے نام پر لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا جاسکتا ہے؟، کے جواب میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ نج کاری تحریک انصاف کے منشور میں شامل نہیں تھی، بلکہ یہ کہاگیا تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی مگر یہ کیسی تبدیلی ہے کہ نوکریاں دینے کی بجائے چھین رہی ہے انہوں نے کہا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان اب دیکھیں کہ حکومت کس طرح اپنے وعدوں سے ہٹ رہی ہے یہ سارے اقدامات تحریک انصاف کے ماتھے پر بد نما داغ ہیں جس طرح حکومت نجی کاری کر رہی ہے اور اس کے نام پر نوکریاں چھینی جارہی ہیں یہ اس طرح بے روزگار کرنا ایک لمحہ فکریہ ہے اس مسئلہ کا حل یہی ہے کہ جماعت اسلامی کو حکومت دی جائے اور ہم اسلامی انقلاب کے ذریعے تبدیلی لائیں گے اور اداروں میں کرپشن ختم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ کرپٹ کو نہیں چھوڑیں اور کرپشن کرنے والا گھر جائے گا، حکومت کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کرے اور بے روزگار نہ کرے بلکہ اداروں میں کرپشن ختم کرکے انہیں چلائے اور ملازموں کے منہ سے نوالہ نہ چھینا جائے۔ اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریز کے رکن ایگزیکٹو عمران سبیر عباسی نے کہا کہ نج کاری کے ذریعے لوگوں کو کسی بھی قیمت پر بے روزگار نہیں کیا جاسکتا‘ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے بے بناہ قیمتی تجاویز دی گئی ہیں اور آئندہ بھی دی جائیں گی تاکہ ملک میں روزگار کا ماحول بن جائے، انہوں نے کہا کہ ملک میں روزگار کے بہتر ماحول کے لیے سفارشات دینے پر ہی بزنس مین پینل کی قیادت ملک میں کاروباری برادری میں مقبول ہے اور جس طرح کا ماحول نج کاری کے ذریعے بے روزگاری کے حوالے سے سامنے آرہا ہے اس کے نتائج ملکی معیشت کے لیے بہتر نہیں ہوں گے اور ہم فیڈریشن کی سطح پر ایسے مسائل پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ سماجی رہنما معراج الحق نے کہا ہے ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ملک تمام سیاسی جماعتوں کو اس موضوع پر سنجیدہ غور کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری میں حالیہ اضافہ کووڈ کی وجہ سے ہوا ہے مگر تحریک انصاف کی حکومت نے جس طرح ایک کروڑ نوکریاں دینے کا نعرہ لگایا تھا اسے اپنے نعرے کو عملی شکل دینے کے لیے نجی کاری کے بجائے اداروں کی بحالی کے لیے ا قدامات کرنے چاہییں تھیم انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مسئلہ پر عالمی حالات بھی ذہن میں رکھنا ہوں گے اور ان کی روشنی میں فیصلے کرنے پڑیں گے ’’گلوبل کلائمیٹ رسک‘‘ کی فہرست میں پاکستان 3 درجے تنزلی کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پہلے 5 ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی کے علاوہ روزگار اور خوارک کا بحران بھی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے پاکستان اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر تھااس صورت حال میں ملک کی معیشت کا زیادہ انحصار زراعت پر ہونے کی وجہ سے اسے شدید معاشی بحران سے بھی دو چار ہونا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے ہائیڈرو لوجیکل سائیکل متاثر ہونے سے بارشیں کم ہو رہی ہیں اور پانی کی کمی سر اٹھا رہی ہے دوسری جانب گرمی بڑھنے کی وجہ سے یا تو فصلیں وقت سے پہلے تیار ہو رہی ہیں یا پھر گرمی سے وہ تباہ ہو رہی ہیںاس صورتحال میں جلدی تیار ہونے والی فصلوں پر حشرات کے حملوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور حال ہی میں ٹڈی دل جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں فصلوں پر حملہ آور ہو چکا ہے اس کے علاوہ بے وقت اور غیر معمولی بارشیں بھی فصلوں کی تباہی کا موجب بن رہی ہیں انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ملک میں خوراک اور اجناس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کرہ ارض پر پائے جانے والے سمندروں کے 80 فی صد حصے نے رواں سال ’’میرین ہیٹ ویو‘‘ کا سامنا کیا ہے اس ہیٹ ویو سے آبی حیات اور آبی ماحولیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں شدید گرمی کی لہر انسانی صحت، تحفظ اور پھر کورونا وبا سے معاشی استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں کورونا وبا کے دوران صنعتی پہیہ سست ہوا، ایک کروڑ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے تھا۔ بھارت کو پالنے والا پنجاب کی سرزمین رکھنے والا پاکستان آج دانے دانے کا محتاج ہوررہا ہے، کبھی ہمیں گندم کی قلت کا سامنا ہوتا ہے تو کبھی دالوں‘چینی اور کبھی سبزیوں کی کمی ہورہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ج) کے ترجمان احمد عمران باجوہ نے کہا کہ یہ ایک نہایت سنجیدہ موضوع ہے اسے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں زیربحث لایا جائی تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو حکومتیں نج کاری کرتی رہیں گی حالانکہ چاہیے یہ تھاکہ ماضی کی حکومتوں سے نج کاری سے حاصل ہونے والی رقوم کے استعمال کا حساب لیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں توا س پر بھی غور کرنا ہوگا کہ دیہات سے تیزی سے آبادی شہروں میں منتقل ہورہی ہے اور شہروں میں معیشت میں اتنی سکت کہا ں رہ گئی ہے کہ وہ مستقبل میں یہ بوجھ برداشت کرسکیں انہوں نے کہا کہ ہوس زرکا شکار طاقتور اشرافیہ نے بڑے شہروں کے نواحی دیہات جو کہ ان شہروں کو خوراک مہیا کرتے تھے ان کو ختم کرکے رہائشی کالونیاں بنادیں جوکہ یہ اس قوم کے ساتھ ایسا ظلم ہے جس کا خمیازہ آنے والی کئی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ چھوٹے کا شتکاروں کو بلاسود قرضے اورسہولیات دی جائیں جاگیردار اربوں کے قرض لے کر معاف کرالیتے ہیں تو چھوٹے کاشتکاروں کو آسان اقساط پر غیر سودی قرضے کیوں نہیں دیے جاسکتے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشنزکے لیے کام کرنے والے تھنک ٹینک اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ دنیا میں پانی اور خوراک وہ ذرائع ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوسکتے لہذا آپ دیکھتے ہیں کہ سال2000ء کے آغاز تک پاکستان میں بوتل بند پانی منرل واٹر کا تصور بھی نہیں تھا پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ آج بوتل بند پانی اربوں روپے کی انڈسٹری بن چکا ہے اسی طرح ڈبہ پیک دودھ بھی صنعت بن گیا ہے یہ سارا کھیل اسی عالمی معاشی دہشت گردوں کے منصوبے کا حصہ ہے اربوں ڈالرمحض تشہیری مہمات پر خرچ کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہار ٹیلی ویژن پر اشتہارات دے رہی ہیں، کہاں مرا ہوا ہے ہمارے ملک کا مسابقتی کمیشن کہاں ہے وہ کیوں اس بات کا جائزہ نہیں لے رہا ۔ پاکستان میں عالمی بینک کے سابق ڈائریکٹر وحید الزمان نے کہاکہ نج کاری کے ذریعے حکومت جس طرح بے روزگاری کا ماحول پیدا کر رہی اسے اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے ، بے روزگاری تو ایک جانب رہ جائے گی اس وقت صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ میں بھوک اور غذائی قلت انتہائی زیادہ ہے بے روزگاری کے ساتھ ساتھ جب بھوک بھی لوگوں کی زندگیاں نگلنا شروع ہوگی تو تب ہمیں ہوش آئے گا حکومت کو چاہیے کہ ایسی حکمت عملی مرتب کرے تاکہ بے روزگاری نہ ہو‘ روزگار چلتا رہے اور لوگوں کی بھوک اور غذائی قلت کے مسائل بھی پیدا نہ ہوں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ایک اسٹڈی کے مطابق کے مطابق پاکستان میں غربت کی سطح سے نیچے جانے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک کورونا کی وبا ہے اس وقت صحت، معیشت اور ماحول کا بھی بحران پیدا ہورہا ہے 37 فیصد پاکستان غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

