افغان دارالحکومت کابل ایک بار پھر راکٹ حملوں کے دھماکوں سے گونج اٹھا، شہر کے مختلف حصے میں یکے بعد دیگرے راکٹ حملوں سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی صبح مختلف علاقوں میں راکٹ حملے کیے گئے جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔وزارت داخلہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ راکٹ حملے میں ایک شخص ہلا ک ہوا ہے۔
وزارت داخلہ نے بتایا کہ کم ازکم 4 راکٹ حامد کرزئی ایئرپورٹ کے قریب بھی گرے ہیں۔
گزشتہ 20 روز میں راکٹ حملوں کا یہ دوسرا واقعہ ہے،21 نومبر کو کابل پر 23 راکٹ حملے کیے گئے جس میں 9 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت میں حالیہ تشدد کی لہر میں یہ سب بڑا حملہ قرار دیا گیا۔
طالبان نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ عوامی مقامات پر آنکھیں بند کرکے حملے نہیں کرتے،گرین زون کے اندر قائم دفتر میں کم از کم ایک راکٹ آکر گرا تاہم وہ پھٹا نہیں۔انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں ایک بڑے میڈیکل کمپلیکس سمیت متعدد عمارتوں کے تباہ شدہ دیواروں اور کھڑکیوں کو دکھایا گیا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کابل شہر میں راکٹ حملے کا امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

