

کوئٹہ/اسلام آباد(نمائندگان جسارت) بلوچستان میں دہشت گردی کے تازہ واقعے میں 11افراد جاں بحق ہوگئے۔ضلع بولان کی تحصیل مچھ کے علاقے گشتری میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نامعلوم افراد کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو اغوا کرکے پہلے پہاڑوں پر لے گئے اور پھر ان پر فائرنگ کردی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، انتظامیہ، اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ لاشوں کو پہلے مچھ کے سرکاری اسپتال اور اس کے بعد کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر بولان مراد کاسی کے مطابق واقعے میں 4 افراد زخمی بھی ہیں جن کا علاج جاری ہے، کان کنوں کی میتیں مچھ سے لانے کے لیے ایمبولینسیں کوئٹہ سے روانہ کی گئی تھیں۔مراد کاسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے کان کنوں کے تیزدھارآلے سے گلے بھی کاٹے گئے تھے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچنگ اور سوئپنگ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔مقامی حکام کے مطابق قتل کیے جانے والے مزدوروں کا تعلق شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔ مسلح افراد واردات کے بعد فرار ہو گئے ،پولیس اور سیکورٹی فورسز ان کی تلاش میں ہیں۔نیم فوجی لیوی فورس کے اہلکار معظم علی جتوئی نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلح افراد ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی شناخت کرکے انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے جبکہ بقیہ لوگوں کو انہوں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ مچھ میںانتظامیہ کے اہلکار کے مطابق شواہد کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔دوسری جانب کوئٹہ میں ہزارہ برادری نے مچھ واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مغربی بائی پاس شاہراہ پر لاشوں کے ہمراہ دھرنا دیا جس کی وجہ سے ٹریفک معطل ہو گئی ہے۔بعد ازاں حکام سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ حافظ عبدالباسط نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 9 افراد کی شناخت ہوئی ہے، ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔صوبائی وزیرداخلہ نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ملزمان کی گرفتاری میںکوئی کسر نہ چھوڑی جائے، صوبے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،دہشت گردی کسی بھی شکل میںہو ناقابل قبول ہے، ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔عبدالباسط کے مطابقجہاں واقعہ ہوا ہے وہ پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں موبائل فون کے سگنلز نہیں اس لیے تفصیلات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کے 11 معصوم کان کنوں کا قابل مذمت قتل انسانیت سوز بزدلانہ دہشت گردی کا ایک اور واقعہ ہے۔ ان کے مطابق ایف سی کو حکم دیا گیا ہے کہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے قاتل گرفتار اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑے کیے جائیں۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کو بالکل تنہا نہیں چھوڑے گی۔وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے آئی جی پولیس بلوچستان سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے مچھ میں دہشت گردی کی مذمت اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے، دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔علاوہ ازیں ن لیگ کے نائب صدر مریم نواز، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،وفاقی وزرا شبلی فراز، فوادچودھری، زبیدہ جلال ،سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفندیار ولی، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ یہاں انصاف نہیں مانگ سکتے لیکن دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد کرے۔
