English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف ریفرنس دائر

القمر

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے اور نیب نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا۔نیب نے سلیم مانڈوی والا کو کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں باقاعدہ ملزم نامزد کردیا ۔ان پر سرکاری پلاٹس اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید کو بیچنے میں اعجاز ہارون کی سہولت کاری کا الزام ہے ۔ سلیم مانڈوی والا کے ساتھ ندیم مانڈوی والا،اعجاز ہارون، عبدالغنی مجید اور مبینہ بے نامی طارق محمود کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ نیب ریفرنس کے مطابق اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقم جعلی اکاؤنٹس سے ملی،اس نے کڈنی ہلز فلک نْما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں، سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو فروخت کرنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی پھر حصے میں ملی رقم سے پہلے ایک بے نامی کے نام پر پلاٹ خریدا، بعد میں وہ پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شیئرز خریدے۔سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14کروڑ روپے جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے، سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے اسی رقم سے بے نامی طارق محمود کے نام پر منگلا ویو کمپنی کے شیئرز خریدے۔علاوہ ازیں نیب نے جام خان شورو کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جب کہ اویس مظفرٹپی، سہیل انور سیال سمیت متعدد سرکاری افسران کے خلاف انکوائری کی منظوری دے دی ۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر اسلام آبادمیں ہوا،جس میں 2 ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔رکن سندھ اسمبلی جام خان شورو اور حیدرآباد کے متعدد سرکاری افسران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر غیر قانونی طور پر اختیارت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جام شورو قاسم آباد سندھ میں سرکاری اراضی پر قبضہ کر کے ذاتی استعمال میں لانے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو تقریباََ5ارب روپے کا نقصان پہنچا۔نیب نے ڈپٹی ڈائریکٹر بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آباد عادل کریم اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف دوسرا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان نے اختیارات کاناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباََ 417.409 ملین روپے کانقصان پہنچایا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں 7 انکوائریز کی منظوری دی گئی جن میں فدا خان، آفتاب خان(فرنٹ مین)،اویس مظفرٹپی اور دیگرشامل ہیں۔اجلاس میں 5 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی جن میں اسپیشل اینیشی ایٹو ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کے افسران/اہلکاران، فشریز ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ ،سابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال، بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی انتظامیہ اور دیگرکے خلاف انوسٹی گیشنز کی منظوری شامل ہے۔ اس کے علاوہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں بلوچستان حکومت کے لیے MI-171E ہیلی کاپٹر کی پروکیورمنٹ کمیٹی اور دیگر کے خلاف انکوائری عدم ثبوت کی بنیاد پر بند کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستا ن نیب کی اولین ترجیح ہے،نیب احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے،نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادارہ ہے،نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے،نیب نے اپنے قیام سے اب تک714 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں،نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اورعالمی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کے لیے اعزازکی بات ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز ٹھوس شواہدکی بنیاد پر قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انوسٹی گیشن آفیسرز اورپراسیکیوٹرز پوری تیاری کے ساتھ معزز عدالتوں میں نیب مقدمات کی پیروی کریں جہاں قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے