میانمار میں انٹرنیٹ کی بندش اور ریاستی رکاوٹوں کے باوجود فوجی بغاوت کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں کو روکنے کے لیے ملک بھر میں پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو بند کیا گیا اور اس کے بعد اب انٹرنیٹ پر ہی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے جب کہ رنگون میں سیکیورٹی فورسز کی زائد نفری تعینات کردی گئی ہے۔

ملک کے اقتدار پر قابض فوج کی جانب کھڑی گئی رکاوٹوں کے باوجود تجارتی حب رنگون میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئے اور آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے فوجی بغاوت کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے جمہوریت کی حمایت میں علامتی طور سرخ غبارے اُٹھا رکھے تھے جب کہ زیر حراست معزول حکمراں آنگ سان سوچی کی تصاویر بھی تھامے ہوئے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

قبل ازٰیں ملک بھر کے 70 سے زائد اسپتالوں کے طبے عملے نے فوجی آمریت کے خلاف ہڑتال جاری رکھی۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کا مطالبہ تھا کہ فوج اپنے ناجائز اقدام کی حمایت حاصل کرنے کے بجائے ہم سے مریضوں کی صحت یابی کی خدمات لیں۔
واضح رہے کہ یکم فروری کو میانمار میں فوج نے بغاوت کرتے ہوئے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرکے ایمرجنسی نافذ کردی اور ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی کو گرفتار کرلیا تھا۔

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف آسٹریلیا میں احتجاج

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف آسٹریلیا میں بھی میانمار کے شہریوں نے احتجاج کیا، شرکاء نے جمہوریت کی بحالی اور آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب ینگون یونیورسٹی کے قریب نوجوانوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے آمریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج روکنے کے لیے ملک گیر سطح پر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں۔
دنیا بھر میں انٹرنیٹ بندش کی مانیٹرنگ کرنے والے گروپ کے مطابق میانمار میں صبح 10 بجے سے انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔
میانمار: فوجی بغاوت کیخلاف دوسرے روز بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر

میانمار میں دوسرے روز بھی ہزاروں افراد نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل آئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق میانمار کے دارالحکومت ینگون میں انٹرنیٹ سروسز اور ٹیلی فون لائنز کی بندش کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی نے بتایا کہ مظاہرین نے آمریت کے خلاف خوب نعرے بازی کی اور آن سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں 160 سے زائد افراد زیرِ حراست ہیں۔
میانمار میں گزشتہ ہفتے فوج نے منتخب سربراہ آن سان سوچی کو حراست میں لے لیا تھا۔
منبع: ایکسپریس نیوز
