English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کون تھا بھارت تیواری؟ جس کے انکاؤنٹر پر بہار کی سیاست میں مچا ہے ہنگامہ

القمر

پٹنہ: بہار کے ضلع بھوجپور میں 28 سالہ بھارت بھوشن تیواری کی پولیس انکاؤنٹر میں ہلاکت نے ریاست بھر میں سیاسی اور عوامی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ بھارت تیواری کو بعض مقامی حلقوں میں عوامی مسائل اٹھانے والی آواز کے طور پر جانا جاتا تھا، جبکہ پولیس کا مؤقف ہے کہ وہ مسلح تھا اور کارروائی کے دوران فائرنگ کر رہا تھا۔

ون تھا بھارت تیواری؟ پولیس کا ریکارڈ کیا کہتا ہے؟

بہار پولیس اور ایس ٹی ایف کے ریکارڈ کے مطابق، بھارت تیواری کا تعلق بہار کے شاہ آباد/بکسر کے علاقے سے تھا اور وہ طویل عرصے سے جرائم کی دنیا میں سرگرم تھا۔

سنگین مقدمات: پولیس کا دعویٰ ہے کہ بھارت تیواری پر قتل ، اقدامِ قتل، تاوان کے لیے اغوا (Kidnapping) اور رنگ داری (Extortion) کے ایک درجن سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔

انعام یافتہ بدمعاش: وہ گزشتہ کئی مہینوں سے روپوش تھا اور پولیس نے اس کی گرفتاری پر بھاری انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔

پولیس کا مؤقف: ایس ٹی ایف حکام کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بھارت تیواری اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی بڑی واردات کو انجام دینے کے لیے چھپا ہوا ہے۔ جب پولیس نے اسے ہینڈز اپ کرنے کو کہا، تو اس نے فائرنگ کر دی، اور جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔

اپوزیشن کا حملہ: "یہ انکاؤنٹر نہیں، سیدھا قتل ہے”

بھارت تیواری کی ہلاکت کی خبر جیسے ہی پھیلی، آر جے ڈی اور دیگر مقامی رہنماؤں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ بہار میں قانون کا راج ختم ہو چکا ہے اور پولیس اپنی ناکامی چھپانے کے لیے نوجوانوں کو فرضی انکاؤنٹر کا نشانہ بنا رہی ہے۔

خاندان کا الزام ہے کہ بھارت تیواری کو پہلے پولیس نے حراست میں لیا اور اس کے بعد اسے ویران جگہ پر لے جا کر گولی مار دی گئی۔ بکسر اور آس پاس کے اضلاع میں اس انکاؤنٹر کے خلاف برادری کے لوگوں نے سڑکیں جام کر دیں اور پولیس گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے