واشنگٹن (تجزیہ: مسعود ابدالی) امریکی صدر جوبائیڈن نے منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار چینی ہم صدر شی جن پنگ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن نے بیجنگ کی معاشی سرگرمیوں، ہانگ کانگ میں متنازع سیکورٹی قانون کی صورت میں جبر اور سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کورونا وبا کے خلاف جنگ، عالمی سطح پر صحت اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مشترکہ چیلنجوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر بائیڈن نے چین کے تائیوان سے متعلق اقدامات پر بھی شی جن پنگ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ صدر بائیڈن نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ چینی صدر کو ساتھ مل کر کام کرنے کا پیغام دے دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے چین کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کے لیے فوجی حکام پر مشتمل ایک ٹاسک فورس کا اعلان کیا ہے۔ جو بائیڈن نے 15رکنی عسکری ٹاسک فورس کا اعلان کیا، جو چین کے ساتھ موجودہ امریکی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے اپنی رپورٹ دے گا۔ فوجی ماہرین کا یہ گروپ اپنی رپورٹ میں چین کے حوالے سے پالیسیوں پر اپنی سفارشات بھی پیش کرے گا۔ وائٹ ہاؤس نے اپنی خارجہ پالیسی کا بڑے پیمانے پر از سر نو جائزہ شروع کردیا ہے اور یہ اقدام بھی اسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ صدر بائیڈن نے پینٹاگون کے اپنے دورے کے دوران صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ہمیں بحر الکاہل اور بین الاقوامی سطح پر امن برقرار رکھنے اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے چین کی طرف سے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بائیڈن کی انتظامیہ نیٹو کے ساتھ بھی امریکی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں بھی سوچ رہی ہے۔ ٹاسک فورس کے سربراہ نئے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے خصوصی معان ایلائی راتھر ہوں گے،جب کہ فوجی ماہرین کے ساتھ بعض غیر عسکری ماہرین بھی اس ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ ٹاسک فورس کو چین سے متعلق امریکی فوجی حکمت عملی، ٹیکنالوجی اور بیجنگ کے ساتھ دفاعی تعلقات کے بارے میں سفارشات پیش کرنے کے لیے 4ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ تجزیہ کار مسعود ابدالی کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ بیجنگ کی تجارتی پالیسی کو غیر منصفانہ سمجھتے تھے، چنان چہ انہوں نے چینی مصنوعات پر بھاری درآمدی محصولات عائد کردیے۔ اس کے مقابلے میں صدر بائیڈن دنیا بھر میں چودھراہٹ قائم رکھنے والی روایتی امریکی پالیسی واپس لارہے ہیں۔ 40سال کے دوران صدر ٹرمپ پہلے امریکی صدر تھے، جن کے دور میں پینٹاگون نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی۔افغانستان، شام اور عراق سے فوجیں کا جزوی انخلا ہوا، صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی قیادت سے براہ راست ملاقاتیں کیں اور علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جزیرہ نما کوریا میں جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ ششماہی فوج مشقوں سے علاحدگی اختیار کرلی۔ ان دور میں نیٹو اتحاد بھی نقاہت کا شکار رہا۔
