ویب ڈیسک —
افغانستان میں طالبان نے طویل محاصر ے کے بعد ایک مشرقی ضلعے پر قبضہ کرلیا ہے، جب کہ ایک اور ضلع میں ایک مہینے کی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ کیا ہے۔
یہ دونوں واقعات ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکہ اور نیٹو کے فوجی ملک سے واپس جا رہے ہیں۔
ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی صبح افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں سڑک پر نصب ایک بم پھٹنے سے کم از کم نو شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے ایاز گل نے اپنی ایک رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان لغمان صوبے کے جنگ سے متاثرہ ضلع دولت شاہ میں داخل ہو گئے ہیں، جب کہ وہاں موجود افغان سکیورٹی فورسز کسی مزاحمت کے بغیر اپنی دفاعی چوکیاں چھوڑ کر پسپا ہو گئیں۔
اطلاعات کے مطابق طالبان نے ایک اہم سرکاری عمارت اور اس کے ارد گرد واقع حفاظتی چوکیوں کو نذر آتش کر دیا۔ مذکورہ افغان ضلع گزشتہ چھ مہینوں سے طالبان کے محاصرے میں تھا۔


No media source currently available
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے علاقے سے افغان پولیس اور سپاہیوں کے فرار ہونے کے بعد دو ٹینک، ایک فوجی گاڑی اور بہت سارا گولا بارود اور ہتھیار اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
افغانستان کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے تکنیکی پسپائی کی ہے جب کہ علاقے میں اب بھی جھڑپیں جاری ہیں اور شورش پسند بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں۔
وزارت دفاع کے عہدے داروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی سے متعلق ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس سے غیرمحفوظ علاقوں، بالخصوص ان علاقوں کے حفاظتی انتظامات بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جہاں طالبان نے حالیہ دنوں میں افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں۔
ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے ضلع الیشانگ میں طالبان اور مقامی سرداروں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں دونوں فریقوں نے ایک مہینے تک لڑائی روک دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ کسان اپنی گندم کی فصل کی کٹائی کر سکیں۔
معاہدے کی نقل میں، جسے طالبان کے سوشل میڈیا سائیٹ پر شیئر کیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے سے مقامی طالب علموں کو اپنے سالانہ امتحانات دینے میں بھی مدد ملے گی۔ معاہدے کے مطابق جنگ بندی 21 جون تک برقرار رہے گی۔
یہ معاہدہ الیشانگ میں کئی ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد طے پایا ہے۔
مقامی لوگوں نے شاذونادر ہونے والے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جب کہ افغان حکومت یا طالبان کی جانب سے اس بارے میں باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہا گیا۔

افغانستان کی وزارت دفاع نے جمعرات کو یہ دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے کئی صوبوں میں جاری اپنی کارروائیوں کے دوران 178 طالبان عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 100 سے زیادہ کو زخمی کر دیا۔
افغانستان میں دونوں فریق ایک دوسرے کی ہلاکتیں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
افغانستان میں جاری جھڑپوں سے بڑے پیمانے پر یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ 11 ستمبر کے بعد جب ملک سے امریکہ اور نیٹو کی تمام فورسز واپس چلی جائیں گی، افغان فوج طالبان کے حملوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔
افغانستان کی فوج طالبان کے خلاف لڑائی میں بڑے پیمانے پر امریکی جنگی طیاروں کی مدد کے علاوہ فوجی تربیت اور دیکھ بھال پر انحصار کرتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر، جنرل فرینک مک کیزی نے بدھ کے روز کہا کہ ان کا خیال ہے کہ افغانستان کے پاس اپنی حفاظت کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے موقع موجود ہے۔

مڈل ایسٹ کے دورے کے دوران اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان فوج اٹھ کھڑی ہو اور یہ ثابت کرے کہ وہ اکیلے لڑ سکتی ہے۔
انوں نے کہا کہ ”میرے خیال میں ان کے لیے مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے پاس جو کچھ ہے اسے محفوظ رکھنے کا یقینی طور پر راستہ موجود ہے، جب کہ خطرات بہت زیادہ ہیں”۔
اعلیٰ امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ وہ جون کے شروع میں وزیردفاع لائیڈ آسٹن کو اس بارے میں سفارشات پیش کریں گے کہ افغانستان کی سرحدوں سے باہر کے دہشت گرد گروپس سے کیسے لڑا جائے اور ان کی نگرانی کی جائے جب تمام امریکی فورسز وہاں سے چلی جائیں گی۔
امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر، جنرل فرینک مک کنزی نے کہا کہ افغانستان کے ہمسائیوں سے ان کی فضاؤں میں پرواز کرنے اور فوجی اڈوں کے حقوق حاصل کرنے سے متعلق بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن اس میں وقت لگے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس انداز سے امریکہ دہشت گردی کے خطرے پر نظر رکھے ہوئے ہے، معاہدوں تک پہنچنے یا زمین پر سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کے نتیجے میں افغان فوج کی قوت میں بتدریج اضافہ ہو جائے گا۔
مک کینزی نے اس بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا کہ وہ امریکی وزیر دفاع کو کیا سفارشات پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد، جو زیادہ سے زیادہ 11 ستمبر تک مکمل ہو جائے گا، دہشت گرد گروپس پر نظر رکھنے کے لیے افغانستان پر نگرانی کرنے والے طیاروں کی باقاعدہ پروازوں کے اخراجات کا تخمینہ بھی پیش کریں گے۔
مک کینزی نے یہ واضح کیا کہ ہمسایہ ملکوں میں اڈوں کی غیر موجودگی کی صورت میں افغانستان کی نگرانی کرنے کے لیے زیادہ طیاروں کی ضرورت ہو گی کیونکہ انہیں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات سے آنے کے لیے چار سے چھ گھنٹوں تک پرواز کرنا ہو گی۔
دوسری جانب افغان مفاہمت کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے واشنگٹن میں ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے اپنی سماعت میں ان خدشات کو مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ذاتی طور پر مجھے یہ یقین ہے کہ ایسے بیانات غلط ہیں کہ افغان فورسز منتشر ہو جائیں گی اور تھوڑے ہی عرصے میں طالبان قبضہ کر لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانوں کو ایک طویل جنگ اور گفت و شنید کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کا سامنا کر کے حقیقی انتخاب کرنا ہے اور مجھے توقع ہے کہ طالبان اور دوسرے رہنما درست انتخاب کریں گے۔
باقی ماندہ رہ جانے والے تقریباً 2500 امریکی اور لگ بھگ 7000 نیٹو فوجیوں کی افغانستان سے واپسی یکم مئی سے جاری ہے، جس کے بعد سے افغانستان میں لڑائیوں میں تیزی آئی ہے۔
امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے پچھلے مہینے افغانستان میں تقریباً 20 سال سے جاری فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
