English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا میں کورونا ویکسین استعمال سے کچھ نوجوانوں کو دل کے ورم کا سامنا، تحقیق

امریکا میں کووڈ ویکسین استعمال کرنے والے کچھ نوجوانوں کو دل کے ورم کا سامنا ہوا ہے اور یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کے ایڈوائزری گروپ نے اس پر تحقیق کا مشورہ دیا ہے۔

سی ڈی سی کے ایڈوائزری گروپ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان رپورٹس کو دیکھا جارہا ہے جن کے مطابق کووڈ ویکسین استعمال کرنے والے کچھ نوجوانوں کو مائیو کارڈائی ٹس (دل کے پٹھوں میں ورم) کا سامنا ہوا۔

سی ڈی سی گروپ کے مطابق عام طور پر یہ عارضہ پیچیدگیوں کا باعث نہیں بنتا اور یہ متعدد وائرسز کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ سی ڈی سی نے آبادی میں توقع کے مطابق کیسز کو دریافت نہیں کیا مگر کمیٹی کے اراکین کو لگتا ہے کہ طبی عملے کو اس ‘ممکنہ مضر اثر’ سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔

سی ڈی سی گروپ کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے افراد میں اس ورم کو دریافت کیا گیا ، بس اس معاملے میں تحقیق کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

سی ڈی سی نے بتایا کہ عام طور پر ایم آر این اے ویکسینز استعمال کرنے کے 4 دن کے اندر یہ مضر اثر نظر آنے لگتا ہے، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس ویکسین سے یہ اثر ہوتا ہے۔

امریکا میں اس وقت 2 ایم آر این اے ویکسینز استعمال ہورہی ہیں جن میں سے ایک کو موڈرنا جبکہ دوسری کو فائزر/بائیو این ٹیک نے تیار کیا ہے۔

فائزر اور موڈرنا کی جانب سے اس حوالے سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل اپریل میں اسرائیل میں فائزر ویکسین استعمال کرنے والے کچھ افراد میں دل کے ورم کو دریافت کیا گیا تھا، جن کی عمریں 30 سال سے زائد تھیں۔

اس وقت فائزر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے عارضے کی شرح کو عام آبادی میں اس بیماری کی شرح سے زیادہ نہیں دیکھا اور ویکسین سے اس کے تعل کو بھی ثابت نہیں کیا جاسکا۔

فائزر اور ایسٹرازینیکا ویکسینز کورونا کی بھارتی قسم کے خلاف بہت زیادہ مؤثر قرار

— شٹر اسٹاک فوٹو

فائزر/بائیو این ٹیک اور ایسٹرازینیکا/آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ کووڈ ویکسینز بھارت میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف بہت زیادہ مؤثر ہیں۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ان دونوں ویکسین کی 2 خوراکوں سے کورونا کی بھارتی قسم سے ہونے والی علامات والی بیماری سے لگ بھگ برطانوی قسم جتنا ہی تحفظ ملتا ہے۔

تاہم دونوں ویکسینز کی ایک خوراک سے 3 ہفتوں بعد بھارت میں دریافت قسم کے خلاف محض 33 فیصد تحفظ ہی ملتا ہے، جبکہ برطانیہ میں دریافت قسم کے خلاف دونوں ویکسینز کی ایک خوراک سے 50 فیصد تحفظ ملتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ویکسینز ممکنہ طور پر ہسپتال میں داخلے اور اموات کی روک تھام کے لیے اس سے بھی زیادہ مؤثر ہوں گی۔

برطانیہ میں موڈرنا ویکسین کا استعمال بھی اپریل سے ہورہا ہے مگر تحقیق کے مطابق بہت کم افراد کو یہ ویکسین دی گئی تو اسے تحقیق کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر ویکسین کورونا کی دوسری خوراک استعمال کرنے کے 2 ہفتے بعد کورونا کی بھارتی قسم سے 88 فیصد تک تحفظ ملتا ہے جبکہ برطانوی قسم کے خلاف 93 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ایسٹرازینیکا ویکسین کی کورونا کی بھارتی قسم کے خلاف افادیت 60 فیصد ہے جبکہ برطانوی قسم سے بچاؤ میں 66 فیصد تک مؤثر ہے۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق دونوں ویکسینز کی افادیت میں فرق کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ ایسٹرازینیکا ویکسین کی دوسری خوراک فائزر ویکسین کے مقابلے میں زیادہ وقفے کے بعد دی جاتی ہے۔

ڈیٹا سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ایسٹرازینیکا ویکسین کی افادیت کو عروج تک پہنچنے کے لیے زیادہ وقت لگتا ہے۔

تحقیق کے لیے 12 ہزار سے زیادہ کیسز کے جینوم سیکونس کے ڈیٹا کو دیکھا گیا تھا جو 5 اپریل سے 16 مئی کے درمیان کیے گئے۔

تحقیق میں 5 اپریل سے ہر عمر کے گروپ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا، یعنی اس تاریخ سے جب یہ نئی قسم برطانیہ میں دریافت ہوئی۔

ان میں سے 154 میں کورونا کی بھارتی قسم یعنی بی 1617 کو دریافت کیا گیا۔

یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر جینی ہیرس نے کہا کہ یہ حقیقی دنیا میں اس نئی قسم کے خلاف ویکسین کی افادیت کا پہلا ثبوت ہے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے