سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا ہے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتخابات ملتوی کرانے سے متعلق مراسلہ واپس لے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں الیکشن کی حقیقت یہ ہے کہ چند روز قبل ایک متنخب رکن اسمبلی کو توڑا گیا اور اسے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شامل کرلیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں دھاندلی کریں گے تو دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے اور بھارت کے سامنے ہماری اپوزیشن کیا ہوگی۔
علاوہ ازیں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) الیکشن ملتوی کرنے کی بات کررہا ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ بات آئینی ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان چل رہا ہے ایسے حالات میں الیکشن کے وقت این سی او سی کا مطالبہ ناقابل فہم ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات کے دوران ایس او پیز پر عمل کرکے بڑی آسانی سے اس آئینی فعال کو جاری رکھ سکتے ہیں۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے سوال اٹھایا کہ کیا گلگت بلتستان کے انتخابات کورونا وبا کے دوران نہیں ہوئے؟۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بھی پوری کوشش ہے کہ الیکنش ملتوی کیا جائے اور الیکشن چوری کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے امن کی باتیں کررہے ہیں جبکہ اپنے ملک میں عوام کی خواہش کے مطابق الیکشن کرانے سے گریزاں ہیں۔
شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ پہلے عوام کی رائے کا احترام کریں اور ووٹ کو عزت دیں کیونکہ یہ الیکشن آتے جاتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر سے متعلق ہمارا 73 سالہ مؤقف ہے اور اگر اس کو نقصان پہنچا تو اس کی تلافی کون کرے گا۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جب آپ اخلاقی اقداریں کھو دیں تو اپنے مؤقف کو پیش کرنے ناکام ہوتے ہیں،
شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ این سی او سی الیکشن ملتوی کرانے سے متعلق مراسلہ واپس لے اور آزاد کشمیر میں الیکشن مقررہ وقت پر ہی کرائے جائیں۔۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو شفاف اور غیر جانبدار انتخاب میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دی جائے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہماری پارٹی کی سیاست اصولوں پر مبنی ہے اور اسی وجہ سے ٹف ٹائم کا سامنا ہے اور اگر کسی اور کے پاس کوئی فارمولا ہے تو وہ بتا دے۔
منبع: ڈان نیوز
