English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا نتین یاہو کی رخصتی فلسطین کے لیے سکھ کا سانس ہوسکتی ہے؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر

اگر نتین یاہو اقتدار سے بے دخل ہو جاتے ہیں جیسا کہ نظر آ رہا ہے تب بھی فرد کی تبدیلی سے شاید مقبوضہ فلسطین کی جانب اسرائیل کی نو آبادیاتی سوچ میں تبدیلی آئے۔ اسرائیل کی اپوزیشن جماعتیں ایک ایسے اتحاد کی طرف جا رہی ہیں جس کا مطلب واضح ہے کہ بالاخر طویل عرصے سے وزارت کی مسند پر براجمان اسرائیلی وزیر اعظم کو رخصت ہونا پڑے گا۔ اسرائیل کے معیار کے مطابق نتین یاہو کا عرصہ حکومت ویسے بھی بہت متنازعہ ہے اور ابھی تک بدعنوانی کی تلوار ان کے سر پر لٹک رہی ہے۔ نتین یاہو کی اہلیہ سارہ نتین یاہو پر بھی 2019 میں عوامی فنڈز کی خرد برد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اسرائیل کے شہر حیفہ میں مقیم ایک فلسطینی لکھاری رامی یونس کا کہنا ہے کہ نتین یاہو نے اسرائیلی سیاست کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔نتین یاہو نے اسرائیلی سیاست کو دو حصوں میں منقسم کیا ایک حصہ ان کا ہمدرد اوردوسرا مخالف اور اب یہی تقسیم نتین یاہو کے خاتمے کا سبب بنے گی۔

یونس کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے نتین یاہو کے جانے کے بعد بھی ان کا دورہ حکومت باقی رہے گا کیونکہ انتہائی قومیت پرست رہنما نفتالی بیننیٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت مرکزیت پسند جماعت کے رہنما یائر لپیڈ کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے بات چیت کریں گے۔ بیںیٹ نے ٹی وی پر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی اتحادی جماعت بنانے کے لیے اپنے دوست یائر لپیڈسےبات کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

نتین یاہو کے پاس وقت بہت کم ہےکہ وہ گزشتہ چار انتخابات کے بعد متحدہ اپوزیشن کے خلاف کوئی رستہ نکال پاتےہیں یا نہیں۔ دیکھنا ہے کہ نتین یاہو کےبعد نئی اسرائیلی حکومت فلسطین کی طرف کوئی رستہ نکال پاتی ہے یا نہیں۔ اسرائیل کی حالیہ پالیسی ایک طویل عرصے سے فلسطینی سیاست کا محور ہے. یونس کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ نتین یاہو کی موجودگی یا اس کی عدم موجودگی فلسطین کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ ہم گزشتہ چار انتخابات سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ دائیں طرف کون ہے یا بائیں بازو کی قوتی۔ کون سی ہیں۔

نتین یاہو کا کمزور اتحاد

اسرائیلی معاشرے کی تقسیم جس کی بڑی وجہ نتین یاہو کاطویل عرصہ اقتدار میں رہنا ہے اور اسی وجہ سے دو دہائیوں سے مقبوضہ فلسطین کے بارے میں کوئی متفقہ نظریات اورسوچ سامنے نہیں آ سکی۔ یونس کا کہنا ہے کہ یائر لپیڈ اور نفتالی بینٹ کے بارے میں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دونوں فلسطین کے مسئلے کو ایک ہی طرح سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ لپیڈ اپنے آپ کو مرکزیت پسند کہتا ہے تاہم اسرائیلی سیاست اس قدر انتہا پسند ہوچکی ہے کہ اس طرح کی اصلاحات محض استعارہ بن چکی ہیں۔ یونس کا کہنا تھا کہ اس وقت کوئی بھی مرکزیت پسند اور دائین بازو کی انتہا پسند جماعت فلسطین کے بارے میں الگ نظریات نہیں رکھتی بلکہ دونوں کا نظریہ اور سوچ ایک ہوچکی ہے۔

یائر لپیڈ صیہونزم کا پرجوش حمایتی ہے ۔ واضح رہے کہ صیہونیت ایک نوآبادیاتی تحریک تھی جس کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح یہودی ریاست کو قیام وجود میں لایا جائے اور جس کو دنیا تسلیم کرے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو درجہ دوم کا شہری بھی سمجھا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی پالیسیوں کو اپارتھائیڈ کا نام دیا ہے۔ یونس کہا کہنا تھا کہ نفتالی بینٹ جس وقت فوج میں ملازمت کر رہے تھے تو اس وقت وہ عربوں کو قتل کرنے پر فخر کرتے تھے۔ 2013 میں بینیٹ جو کہ فوج کے ایک سابقہ افسر بھی ہیں نے کہا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے عربوں کا قتل کیا ہے اور ایسا کرنے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ یونس کا کہنا تھا کہ نتین یاہو مخالف اتحاد بہت احتیاط سے آگے بڑھے گا اور اس کی وجہ جوائنٹ لسٹ ہے جو کہ اسرائیل میں فلسطینیوں کی سیاسی جماعتوں کا اکٹھ ہے۔

میرا نہیں خیال کہ وہ اس لمحے آبادکاری کے عمل کو آگے بڑھائیں گے تاہم اگر یہ بات بینٹ پر آئی توآپ آبادکاری کے عمل میں یکدم اضافہ دیکھیں گے۔  نتین یاہو کی لکوئیڈ پارٹی نے بنیٹ اور دیگر جماعتوں کو وزارت عظمی میں حصہ دینے کی پیش کش کی ہے تاہم لکوئیڈ پارٹی کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا گیا ہے۔  انس خطیب جو کہ اسرائیل شہر حیفہ میں فلسطینی انسانی حقوق کے علمبردار ہیں کا کہنا تھا کہ میرے لیے بحیثیت فلسطینی نتین یاہو یا ان کے بعد کے دور حکومتوں میں کوئی فرق ہو۔ نفتالی بینٹ ہر گز نتین یاہو سے بہتر نہیں ہیں ۔ میرا خیال ہے صورتحال بہتر نہیں بلکہ مزید بدتر ہوگی۔

منگل، یکم جون 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے