English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی سلامتی کمیٹی کا بند کمرہ اجلاس: کن امور پر بات ہو گی؟

پاکستان کی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ایک غیر معمولی اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس غیر معمولی اجلاس میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے سبب بدلتی علاقائی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین پر مشتمل کمیٹی اور پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کو ملک کی سول اور عسکری قیادت بریفنگ دے گی۔

بند کمرہ اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق امور سمیت افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا، امریکہ کی جانب سے فضائی اڈوں کے مطالبے سمیت مسئلہ کشمیر پر ارکان کو آگاہ کیا جائے گا۔

یہ اجلاس حزبِ اختلاف کی قیادت کے مطالبے پر طلب کیا گیا ہے جس میں افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا اور اس کے پاکستان پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو سفارشات بھی دی جائیں گی۔

اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے والے تمام راستے عام ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں اور پارلیمنٹ کے ضروری اسٹاف کے علاوہ دیگر ملازمین کو گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔ حکام نے صحافیوں کے پارلیمنٹ میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

اسپیکر اسد قیصر بند کمرہ اجلاس کی صدارت کریں گے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف پارلیمانی قیادت کو بریفنگ دیں گے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر رکھی ہے۔



فائل فوٹو

حکومتِ پاکستان کو خارجہ پالیسی اور بالخصوص امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر حزبِ اختلاف کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ صدر بائیڈن نے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد سے تاحال پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا۔

خطے کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں جمعرات کو ہونے والے اجلاس کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس نومبر میں اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے قومی سلامتی کمیٹی کا طلب کردہ اجلاس حزبِ اختلاف کی عدم شرکت کے اعلان کے بعد ملتوی کرنا پڑا تھا۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے سبب خانہ جنگی کے خدشے کو دیکھتے ہوئے پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ کو ذمہ دارانہ انخلا کرنا چاہیے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے حال ہی میں امریکی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو فضائی اڈے فراہم نہیں کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے