ویب ڈیسک —
فلپائن کے حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ملک کے جنوبی حصے میں فضائیہ کا سی ون تھرٹی طیارہ لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ طیارے میں 92 افراد سوار تھے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق طیارہ صوبہ سولو کے علاقے پتی کُل کے جولو ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران رن وے سے آگے نکل گیا اور تباہ ہو گیا۔
فلپائن کے سیکریٹری دفاع ڈیلفن لورینزانا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘اب تک 17 لاشوں اور 40 زخمیوں کو نکالا جا چکا ہے۔ جب کہ امدادی کام جاری ہے۔’
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ نے رپورٹ کیا کہ ڈیلفن لورینزانا کا کہنا تھا کہ طیارے میں 92 افراد سوار تھے جس میں تین پائلٹس اور عملے کے پانچ ارکان بھی شامل تھے جب کہ باقی تمام افراد فوجی اہلکار تھے۔
ادھر فلپائن کے آرمی چیف سرلیٹو سوبی جانا نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ‘یہ بڑی بدقسمتی ہے، طیارہ رن وے پر اُترنے سے قاصر رہا اور اس نے سنبھلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور تباہ ہو گیا۔’
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ طیارہ کاگایان ڈی اورو شہر سے فوجیوں کو لے کر جا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ طیارے میں سوار 40 افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
‘اے پی’ کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ ان دو سی-130 طیاروں میں سے ایک تھا جو اس سے قبل امریکی فضائیہ کے زیرِاستعمال تھے اور انہیں رواں سال فوجی امداد کے طور پر فلپائن کے حوالے کیا گیا تھا۔
‘رائٹرز’ کے مطابق فوجی ترجمان کرنل ایڈگارڈ اریوالو کا کہنا ہے کہ طیارے پر کسی قسم کے حملے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ لیکن تحقیقات کا ابھی آغاز نہیں کیا گیا کیوں کہ تمام تر توجہ امدادی کارروائیوں اور زخمیوں کے علاج پر مرکوز ہے۔
ملٹری چیف کریلیاٹو سوبی جانا نے ‘رائٹرز’ کو ایک پیغام میں بتایا ہے کہ طیارہ جولو ایئرپورٹ سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر صبح ساڑھے 11 بجے کے قریب تباہ ہوا۔ ان کے بقول طیارہ فوجیوں کو لے کر جا رہا تھا۔
جائے حادثہ سے آنے والی تصاویر میں درختوں کے درمیان طیارے کے ملبے سے شعلے اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا جب کہ وردی میں ملبوس افراد بھی ارد گرد نظر آئے۔
رپورٹس کے مطابق جس صوبے میں طیارہ تباہ ہوا ہے وہاں حکومتی فورسز دہائیوں سے عسکریت پسند گروپ ابو سیاف سے لڑ رہی ہیں۔ البتہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ طیارہ تباہ ہونے کی کیا وجہ تھی۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق امریکہ اور فلپائن کی جانب سے ابو سیاف کو بم دھماکوں، اغوا برائے تاوان اور قتل و غارت گری پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے برسوں کی کارروائیوں میں اس گروپ کو کمزور کیا گیا ہے لیکن اب بھی یہ حکومت کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں اداروں ‘رائٹرز’ اور ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لی گئی ہیں۔


