English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روس میں مسافربردار طیارے کے حادثے میں 28 افراد ہلاک

روس کی سرکاری ایوی ایشن ایجنسی نے کہا ہے کہ کامچاٹکا کے علاقے میں لاپتا ہونے والے مسافر بردار طیارے کا ملبہ اوخوٹسکا کے ساحل کے قریب ایک ائیر پورٹ کے رن وے سے لگ بھگ پانچ کلومیٹر کے فاصلے سے مل گیا ہے۔

بدقسمت طیارہ اس ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک انٹونوف این-26 طیارہ، جس پر 22 مسافر سوار اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے، پیٹروپاولوسک کامچاٹسکی سے پالانا جاتے ہوئے اس وقت راڈار سے غائب ہو گیا جب وہ لینڈ کرنے والا تھا۔ طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔

کامچاٹکا کے گورنر نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ طیارہ کا مرکزی حصہ ساحل سے مل گیا ہے جب کہ کچھ ملبہ ساحل کے قریب سمندر سے ملا ہے۔

روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے میں سوار 28 افراد میں سے کوئی بھی اس حادثے میں زندہ نہیں بچا۔

کامچاٹکا ایوی ایشن انٹرپرائز کے سرگئی گورب نے بتایا کہ طیارہ جزوی طور پر سمندر میں ایک چٹان سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوا جب کہ یہ علاقہ اس کے فضائی راستے کا حصہ نہیں تھا۔

روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی طاس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ 1982 سے سروس میں تھا۔



فائل فوٹو

کامچاٹکا ایوی ایشن انٹرپرائز کے ڈائریکٹر الیکسی خاباروف نے بتایا کہ اڑان بھرنے سے پہلے طیارے میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی۔

روس کی ہوابازی کے سرکاری ادارے نے بتایا ہے کہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

طیارے کے حادثے کے مقام پر تلاش اور امدادی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ کامچاٹکا کے گورنر نے بتایا ہے کہ رات ہونے کے بعد امدادی سرگرمیاں روک دی گئیں، کیونکہ وہ علاقہ دشوار گزار ہے اور وہاں ہیلی کاپٹر اتر نہیں سکتا۔

گورنر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک وڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ خراب موسم اور سمندر کی اونچی لہروں کی وجہ سے امدادی آپریشن عارضی طور پر روکنا پڑا ہے جسے صبح دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل 2012 میں کامچاٹکا ایوی ایشن انٹرپرائز کا ایک این-28 طیارہ اسی راستے پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس طیارے پر 14 افراد سوار تھے، جن میں سے 10 ہلاک ہو گئے تھے۔ طیارے کے دونوں پائلٹ بھی مرنے والوں میں شامل تھے۔ جب ان کے خون کا ٹیسٹ کیا گیا تو پتا چلا کہ دونوں نے شراب پی رکھی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے