ویب ڈیسک —
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے، جن کے دور میں افغانستان میں طالبان اور ملا عمر کی حکومت کے خلاف 20 برس قبل لشکر کشی کی گئی، ڈوئچے ویلے کو دیے گئے انٹرویو میں افغانستان سے امریکی اور مغربی ملکوں کی افواج کے انخلا کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
انھوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اس کے نتیجے میں افغان خواتین اور بچیاں ممکنہ طور پر پھر سے”ناقابل بیان بربریت” کی جانب دھکیل دی جائیں گی۔
گیارہ ستمبر 2001ء کے امریکہ کے خلاف حملوں کے نتیجے میں بش نے افغانستان کے خلاف لڑائی کے احکامات دیے تھے اور ملا عمر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ طالبان دور میں خواتین کے خلاف سختی اور بربریت روا رکھی جاتی تھی، اور انھیں تعلیم اور سماجی برابری کے حق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ ملا عمر کو الٹی میٹم دیا گیا تھا کہ وہ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن حوالے کردیں اور دہشت گردی کے تربیتی کیمپ بند کر دیں یا پھر حملے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ملا عمر نے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد اکتوبر میں امریکی زیرِقیادت اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔
جرمن نشریاتی ادارے، ڈوئچے ویلے کے ایک سوال پر آیا فوجی انخلا غلط فیصلہ ہے، بش نے کہا کہ ”میں یہی سمجھتا ہوں، چونکہ میرے خیال میں اس کے انتہائی سنگین نتائج نکل سکتے ہیں”۔
رواں سال کے آغاز پر صدر جو بائیڈن نے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کا آغاز کیا تھا جو تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ طالبان جنگجو اس وقت ایک کے بعد دوسرے ضلعے پر قابض ہوتے جا رہے ہیں اور ملک کے ایک بڑے رقبے پر کنٹرول جماچکے ہیں۔
ڈوئچے ویلے کو دیا گیا یہ انٹرویو ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آنگلا مرکیل بحیثیت جرمن چانسلر امریکہ کا آخری دورہ کرنے والی ہیں۔ بش نے کہا کہ مرکیل نے افغانستان میں فوج کی تعیناتی کے حمایت کی تھی، چونکہ،بقول ان کے، انھیں بخوبی علم تھا کہ اس کے نتیجے میں افغانستان میں بچیوں اور خواتین کو ترقی کرنے اور بااختیار بننے کا موقع میسر آئے گا۔
بش نے کہا کہ یہ امر ناقابل یقین ہے کہ طالبان کے دور میں معاشرے میں روا رکھے جانے والے مظالم کس طرح ختم ہوئے؛ لیکن انھیں اس بات کا افسوس اور خوف ہے کہ افغان خواتین اور بچیوں پر پھر سے ناقابل بیان مظالم ڈھائے جا سکتے ہیں۔
نوے کی دہائی کے اواخر میں طالبان کے دور میں خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا گیا تھا جب کہ بچیوں کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ اس معاملے پر امریکہ اور یورپ کی جانب سے احتجاج کے باوجود طالبان نےشریعہ کی سخت تعزیرات نافذ کر رکھی تھیں۔ تاہم، بچیوں اور خواتین پر سختی برتنے کے خلاف کوئی بھی کھل کر احتجاج نہیں کر سکتا تھا۔
بش نے کہا کہ سابق خاتون اول، لورا بش کے ہمراہ انھوں نے افغان خواتین کے بہبود کے لیے کافی وقت صرف کیا، اور یہ کہ، بقول ان کے، اب افغان خواتین اور بچیاں پھر سے خوفزدہ ہیں۔ ساتھ ہی، انھوں نے کہا کہ مترجم اور وہ افراد جنھوں نے نہ صرف امریکی بلکہ نیٹو افواج کی مدد کی، بقول ان کے، انھیں ظالم افراد کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے، جو ان سے بے رحمی کے ساتھ پیش آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب، آٹھ جولائی کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کا فوجی مشن 31 اگست کو ختم ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ چار امریکی صدور کے ادوار میں افغانستان میں امریکی افواج تعینات رہی ہیں، اس طویل لڑائی کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ اب افغانستان کے رہنماؤں کو اکٹھے ہو کر مستقبل کی جانب بڑھنا ہوگا۔
افغانستان کے بارے میں ان کی انتظامیہ حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ کہہ چکی ہے کہ صدر بائیڈن اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ صدر کہہ چکے ہیں کہ آپ اپنے کتنے ہزار مزید بیٹوں اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں؟ اور واضح کیا کہ انہیں طالبان پر بھروسا نہیں، لیکن انہیں افغانستان کی فوج کی اپنی حکومت کا دفاع کرنے کی صلاحیت پر بھروسا ہے۔ بقول ان کے، ہمارا مشن اسی وقت مکمل ہو گیا تھا جب ہم نے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالا اور دنیا کے اس خطے سے دہشت گردی کا پھیلاؤ بند ہو گیا۔
