اسلام آباد: امریکی سفارت خانہ نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک میں امریکی شہری اس ملک کے قوانین کے تابع ہوتے ہیں، امریکی سفارت خانہ کسی کیس میں عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔
اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانہ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک میں امریکی شہری اس ملک کے قوانین کے تابع ہوتے ہیں اور امریکی شہری کے خلاف کسی کیس میں سفارت خانہ عدالتی کارروائی اور قانونی امور پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔
یہ پڑھیں : نور مقدم کیس: امریکی شہری ہوں پاکستانی نہیں، ملزم ظاہر جعفر
ٹویٹر ییغام میں کہا گیا ہے کہ سفارت خانہ اپنے شہریوں کی خیریت دریافت کرسکتا ہے اور ان کی معاونت کے لیے انہیں وکلا کی ایک فہرست بھی فراہم کرسکتا ہے۔
In a foreign country, U.S. citizens are subject to that country’s laws. When Americans are arrested abroad, the Embassy can check on their well-being and provide a list of lawyers, but cannot provide legal advice, participate in court proceedings or effect their release.
— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) July 27, 2021
واضح رہے کہ امریکی سفارت خانے نے یہ بیان نور مقدم قتل کیس کے ملزم امریکی شہری ظاہر جعفر کے اس بیان کے تناظر میں دیا ہے جس میں ملزم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ میں امریکی شہری ہوں پاکستانی نہیں تاہم ٹویٹر پیغام میں اس کیس کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
