English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سےملاقات، تعلقات مزید بہتر کرنے پر تبادلہ خیال

القمر

وزیراعظم عمران خان سے سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے ملاقات کی جہاں دوطرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان السعود نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور وزیراعظم نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہری بنیاد پر قائم اور تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر خادمین حرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے مئی 2021 میں سعودی عرب کے اپنے دورے کا ذکر کیا اور اس وقت کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں انہوں نے مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت پر پر زور دیا۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے تعلقات کے معاشی پہلو کو مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں پائے جانے والے وسیع مواقع کے لیے اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

فیصل بن فرحان سے ملاقات میں انہوں نے سعودی-پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل (ایس پی ایس سی سی) کی فعالیت سے متعلق کام کو سراہا، جو پاک-سعودی تعلقات اسٹریٹجک سمت میں ڈھالنے کے لیے سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے دونوں ممالک میں ترقی اور بہتری کے لیے سعودی عرب میں پاکستانی برادری کے اہم کردار کی تعریف کی اور عوامی سطح پر رابطوں سے دوطرفہ تعاون کے لیے ٹھوس بنیادیں فراہم ہوتی ہیں۔

پاکستانیوں کوکووڈ کے باعث پیش آنے والی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے ان کی وقت پر سعودی عرب واپسی کے لیے بروقت اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کو کووڈ ویکسین کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا، دونوں ممالک اور جنوبی ایشیا میں کووڈ کی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔

وزیراعظم نے افغانستان کی صورت حال پر افغان فریقین کو سیاسی حل کے لیے تعمیری اور بامقصد مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کیا جو خطے میں امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

فیصل بن فرحان نے وزیراعظم کی جانب سے سعودی وفد کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے بھائی چارے کی بنیاد پر قائم مضبوط تعلقات کو بھی نمایاں کیا۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کی جانب سے اسٹریٹجک پہلو پر تشکیل دیے گئے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب قریبی برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں، سعودی عرب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مقبوضہ جموں و کشمیر پر رابطہ گروپ کا رکن ہے اور مسئلہ کشمیر پر تعاون کرتا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے اور نور خان ایئر بیس پر وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سےملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی اور سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں اُمید ہے کہ کونسل، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے، انہیں ادارہ جاتی بنانے اور تمام مواقع کی تلاش میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ماضی میں بھی متعدد شعبوں میں مل کر کام کیا ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ کونسل دونوں ممالک کے درمیان باہمی اشتراک کے فروغ کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملاقات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے باہمی تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور جس طرح معاملات چل رہے ہیں ہم اس کے ساتھ مطمئن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بات پر توجہ دی کہ ہم کس طرح اپنے معاشی روابط کو فروغ دیں، 20 لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب کی سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن ہم باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے مزید معاشی رابطے کس طرح بناسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے قیادت نے بڑے فیصلے کیے ہیں اور ہمیں اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری دی، جو سعودی-پاکستان اعلیٰ مشاورتی کونسل کا قیام اور اس کی فعالیت ہے۔

کابینہ نے سائبر سیکیورٹی پالیسی تشکیل دینے کی منظوری دے دی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے قومی سائبر سیکیورٹی پالیسی 2021 کی منظوری دے دی جس کے تحت قومی سائبر سیکیورٹی رسپانس فریم ورک کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

حکومت نے پالیسی پر عملدرآمد کے لیے سائبر گورننس پالیسی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

پالیسی کے مطابق پاکستان کے کسی بھی ادارے پر سائبر حملہ قومی خودمختاری کے خلاف جارحیت کا اقدام سمجھا جائے گا اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

کمیٹی قومی سطح پر پالیسی پر عمل درآمد، بروقت حکمت عملی طے کرے گی اور کارروائی کرے گی۔

کمیٹی میں سیکریٹریز اور 13 مختلف محکموں / تنظیموں کے اعلیٰ افسران شامل ہیں جبکہ اس سے قبل مختلف تنظیمیں سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور پر توجہ دے رہی تھیں۔

عالمی حکمت عملی انڈیکس اور عالمی سلامتی انڈیکس 2018 کی رپورٹ کے مطابق فی الحال پاکستان کو دنیا کی ساتویں بدترین سائبر سیکیورٹی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔

ڈیجیٹل ڈومین میں کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس سائبر سیکیورٹی انتہائی کمزور ہے۔

قومی سائبر سیکیورٹی پالیسی کا مقصد سائبر اسپیس میں معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز کے ناجائز استعمال سے متعلق واقعات کا مقابلہ کرنا ہے جس سے پاکستان کو شدید مالی اور سلامتی کا خطرہ لاحق ہے۔

اس پالیسی میں سائبر ایکو سسٹم کے تحفظ، قومی انفارمیشن سسٹم کی سلامتی اور تمام قومی آئی سی ٹی انفرا اسٹرکچرز میں بنیادی ڈھانچے اور تحفظ کے لیے تمام سرکاری اور نجی اداروں میں داخلی فریم ورک کے قیام کے لیے تعاون شامل ہے۔

اس پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہر سطح پر سائبر حملے سے بچاؤ کے لیے معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کریں، سائبر کرائم مانیٹرنگ، الیکٹرانک شناخت اور تحفظ کو یقینی بنائیں اور تنظیموں کو مطلوبہ نظام مہیا کریں اور آن لائن رازداری کے تحفظ کے لیے بھی تعاون کریں۔

اس پالیسی میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے تربیتی پروگرامز تیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سید امین الحق نے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستانی شہریوں اور سرکاری و نجی اداروں کے آن لائن ڈیٹا، معلومات اور نجی اور اہم مواد کی رازداری کو برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت آئی ٹی اور تمام متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان کا ڈیٹا، سروسز، آئی سی ٹی مصنوعات اور سسٹم سائبر سیکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی پر مبنی سروسز اور نظام افراد، کاروبار، تنظیموں اور حکومت کے لیے ایک اہم قوت بن رہے ہیں۔

پالیسی کے مطابق سرکاری اور نجی شعبوں میں کسی بھی واقعے کی صورت میں حکومت ردعمل دے سکے گی۔

پالیسی کے مطابق پاکستان پر سائبر حملے کو زمرہ اول اور زمرہ دوم کی خود مختاری کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا اور ریاست مناسب جوابی اقدامات کے ساتھ اپنا دفاع کرے گی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے