English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کے پیش نظر مزید افغان باشندوں کا انخلا متوقع

بائیڈن انتظامیہ نے پیر کو فیصلہ کیا ہے کہ طالبان کے بڑھتے ہوئے تشدد کے تناظر میں خطرے کے شکار افغانوں کے انخلا کے پروگرام کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی خبر رساں اداروں اور امریکی امداد حاصل کرنے والی امدادی اور ترقیاتی ایجنسیوں میں کام کرنے والے افغان باشندوں اور ان کے خاندانوں کو بھی امریکہ میں ریفیوجی کا درجہ دیا جائے گا۔

امریکی حکومت اور نیٹو کی فوج کے موجودہ اور سابق ملازمین جو انخلا کے منظور کردہ پروگرام کے دائرے میں نہیں آتے تھے انہیں بھی اب شامل کیا جائے گا۔

تاہم اس فیصلے کے تحت ضروری اور مشکل شرط یہ ہو گی کہ انہیں سیکیورٹی سے متعلق جانچ پڑتال کے لیے کسی تیسرے ملک جانا ہو گا، جہاں 12 سے 14 ماہ لگ سکتے ہیں۔ امریکہ ان کے سفر اور تیسرے ملک میں رہائشی اخراجات برداشت نہیں کرے گا۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب یہ ہو گا کہ مزید کئی ہزار افغان باشندے اور ان کے خاندانوں کو امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کا موقع مل سکے گا۔

محکمے نے اس پروگرام کے تحت اہل افراد کی تعداد نہیں بتائی۔

ایک افغان مترجم امریکیوں فوجیوں کے ساتھ ایک دور افتادہ علاقے میں بات چیت میں مصروف۔ فائل فوٹو

ایک افغان مترجم امریکیوں فوجیوں کے ساتھ ایک دور افتادہ علاقے میں بات چیت میں مصروف۔ فائل فوٹو

یو ایس ریفیوجی ایڈمشن پروگرام کے اندر ترجیح نمبر دو متعارف کرانے کا مقصد یہ ہے کہ بنیادی پروگرام کے دائرے میں جو افغان باشندے نہیں آتے اور انہیں خصوصی امیگریشن ویزہ نہیں دیا جا سکتا، مگر امریکہ کے ساتھ کسی نہ کسی تعلق کی بناء پر ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو، تو ایسے افراد ان کے خاندانوں کو بھی امریکہ میں ریفیوجی کا درجہ مل سکے۔

ترجیح نمبر دو کی اہلیت کے لیے ضروری ہے انہیں یا تو امریکی حکومت کی کوئی ایجنسی نامزد کرے یا امریکہ میں قائم میڈیا کےکسی ادارے یا غیر سرکاری ادارے کا اعلیٰ افسر جو امریکی شہری ہو، نامزد کرے۔

خصوصی امیگریشن ویزہ حاصل کرنے والے 221 افغان باشندوں کا پہلا گروپ جمعہ کو امریکہ پہنچ گیا ہے۔ یہ ان ڈھائی ہزار افغانیوں کا پہلا گروپ ہے، جن کی سیکیورٹی کلیئرنس ہو گئی ہے اور وہ جلد ہی امریکہ آجائیں گے۔ ان میں سے اکثر بطور مترجم یا امریکی فوج یا سفارت کاروں کے ساتھ کام کرتے تھے۔

تقریباً چار ہزار مزید افغانوں نے اپنے خاندانوں سمیت خصوصی امیگریشن ویزے کے لیے درخواست دی ہے، توقع ہے کہ ان کی سیکیورٹی کلیرنس کسی تیسرے ملک میں ہو گی۔ اندازاً 20 ہزار افغانوں نے اس پروگرام میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

(خبر کا مواد اے۔پی سے لیا گیا)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے