English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر بائیڈن نے پاکستانی نژاد خضر خان کو امریکی کمشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی مقرر کر دیا

صدر بائیڈن نے پاکستانی نژاد وکیل خضرخان کا تقرر، جو ‘گولڈ سٹار فادر’ بھی ہیں،امریکی فوجیوں اور مذہبی آزادیوں کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکی کمشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے طور پر کر دیا ہے۔

خضر خان نے سن 2016 میں اس وقت امریکہ بھر میں توجہ حاصل کر لی تھی جب انہوں نے ڈیموکریٹ پارٹی کے کنونشن میں اس وقت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر مذہبی آزادیوں کے حوالے سے ان کے ایک بیان پر کڑی تنقید کی تھی۔

امریکی شہر فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن کے موقع پر خطاب میں پاکستانی نژاد امریکی شہری خضرخان نے کہا کہ اُن کا 27 سالہ بیٹا کیپٹن ہمایوں خان 2004 میں عراق میں ایک کار بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹے نے امریکہ کے خاطر اپنی جان قربان کی۔

خضر خان ڈیموکریٹک کنونشن میں اپنی تقریر کے دوران امریکی آئین کی کاپی لہرا رہے ہیں کہ اس میں تمام امریکیوں کے لیے برابری کے حقوق کا وعدہ کیا گیا ہے۔2016

خضر خان ڈیموکریٹک کنونشن میں اپنی تقریر کے دوران امریکی آئین کی کاپی لہرا رہے ہیں کہ اس میں تمام امریکیوں کے لیے برابری کے حقوق کا وعدہ کیا گیا ہے۔2016

اُن دنوں ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں سے متعلق بعض سخت بیانات دیتے رہے تھے جن میں امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی لگانے کی تجویز بھی شامل تھی، جس پر بعض مسلمانوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔

خضر خان نے اپنے کوٹ کی جیب سے امریکہ کے آئین کی کاپی نکالتے ہوئے کہا کہ وہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کو دے سکتے ہیں۔

اپنی اہلیہ کے ساتھ اسٹیج پر کھڑے خضر خان نے آئین کی کاپی لہراتے ہوئے کہا کہ ’’اس میں آزادی اور برابری کے تحفظ کے الفاظ دیکھیں۔‘‘

اُنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ آپ آرلنگٹن کے قبرستان جائیں اور اُن بہادر امریکیوں کی قبروں کو دیکھیں جہنوں نے امریکہ کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں۔ وہاں آپ کو ہر مذہب، نسل اور جنس کے لوگ ملیں گے۔‘‘

خضر خان اپنی اہلیہ غزالہ خان کے ساتھ وائس آف امریکہ کے ایک ٹی وی شو میں شریک ہیں۔ فائل فوٹو

خضر خان اپنی اہلیہ غزالہ خان کے ساتھ وائس آف امریکہ کے ایک ٹی وی شو میں شریک ہیں۔ فائل فوٹو

خضر خان 1980 میں امریکہ میں منتقل ہوئے تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ وہ اور اُن کی اہلیہ محب وطن مسلمان امریکی ہیں۔ انہوں نے ہاروڈ سے تعلیم حاصل کی اور وہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں۔

خضر خان کے اس بیان کے بعد امریکہ میں آئین کی کاپیاں بڑی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ آن لائن کتابوں کی فروخت کی مشہور ویب سائٹ ‘ایمزون’ کے مطابق اس بیان کے چند روز کے اندر اس نے امریکی آئین کی دس لاکھ کاپیاں فروخت کیں جو کہ اس سائٹ پر اس وقت تک کی سب سے زیادہ اور مجموعی طور پر فروخت ہونے والی دوسری بڑی تعداد تھی۔

خضر خان سن 2020 کے صدارتی انتخابات کے لیے بائیڈن کی ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدراتی امیداور کے طور پر تائید کرنے والوں میں شامل تھے۔

نیوز چینل سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز امریکی آئین کی خواندگی اور قومی اتحاد کے پراجیکٹ کے ایک بانی کی حیثیت سے عقیدے کی آزادی کو انسانی عظمت کے ایک کلیدی جزو پر اجاگر کرنے میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اعلان میں کہا کہ خضرخان نے اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ سابق فوجیوں، حاضر سروس مرد و خواتین فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی قانونی مدد کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔

خضرخان کے علاوہ وائٹ ہاؤس نے راشد حسین کو بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے ایمسیڈر ایٹ لارج اور ڈیبرا لیپس ٹیڈ کو یہودی مخالف واقعات پر نظر رکھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی سفیر مقرر کیا ہے۔

(اس خبر کے لیے کچھ مواد سی این این اور پولیٹیکو سے لیا گیا)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے