اسلام آباد: چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عاصم سلیم باجوہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے استعفی کی تصدیق کی ہے۔
I want to thank @AsimSBajwa for his services in moving CPEC forward and playing a vital role in broadening of the CPEC scope with a transition to second phase of CPEC. His dedication and commitment was a source of great strength and support
— Asad Umar (@Asad_Umar) August 3, 2021
اپنے ٹویٹ میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ عاصم باجوہ اب سی پیک کے معاملات کو نہیں دیکھیں گے، عاصم باجوہ کی خدمات پر میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے سی پیک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
I welcome khalid mansoor to the team as SAPM for CPEC affairs. His vast corporate experience , with extensive work with Chinese companies and his direct involvement in leading some of the biggest CPEC projects makes him an ideal person to lead the next phase of CPEC
— Asad Umar (@Asad_Umar) August 3, 2021
اسد عمر نے کہا کہ اب عاصم سلیم باجوہ کی جگہ خالد منصور کو سی پیک افیئرز کے لیے معاون خصوصی برائے وزیراعظم کا عہدہ دیا جارہا ہے ہم انہیں اس عہدے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں، ان کا کارپورٹ سیکٹر کا وسیع تجربہ، چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنا اور سی پیک کے کچھ بڑے پروجیکٹس میں براہ راست شمولیت انہیں سی پیک کے اگلے مرحلے کی قیادت کے لیے آئیڈیل شخصیت قرار دیتی ہے۔
The course is set for future progression of CPEC, this journey will go on. My best wishes to Kahlid Mansoor sb, who is fully equipped to take it forward. CPEC is life line for Pakistan, it will transform us into a progressive and fully developed country InshaAllah-2/2
— Asim Saleem Bajwa (@AsimSBajwa) August 3, 2021
اپنے ٹویٹ میں عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے سی پیک اتھارٹی کو چلانے کا موقع ملا، سی پیک اتھارٹی نے ون ونڈو سے اس کی سمت کا بھی تعین کردیا، وزیراعظم اور حکومت کی مکمل حمایت کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔
انہوں ںے مزید کہا کہ میری نیک تمنائیں خالد منصور کے ساتھ ہیں جو سی پیک کو آگے لے جائیں گے، انشا اللہ سی پیک سے پاکستان ترقی یافتہ ملک بن جائےگا۔
